تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 236
تاریخ احمدیت۔جلدا ۲۳۵۰ حضرت اقدس کا پہلا سفر لدھیانہ کیا کہتے ہیں۔یہ کہکہ حضرت اقدس اپنے خدام کے ساتھ پہلے کرے کی طرف چل دیئے یہاں آئے تو دیکھا کہ کمرہ کھچا کھچ بھرا ہے اور تل دھرنے کو جگہ نہیں۔حضور اور آپ کے ساتھیوں کو بمشکل جگہ ملی۔ان لوگوں سے کہا گیا کہ وہ اپنے شکوک پیش کریں۔چنانچہ وہ اعتراضات کرتے رہے اور حضرت مسیح موعود انکے جوابات دیتے رہے لیکن ان شوریدہ سروں کو تحقیق حق تو مقصود نہیں تھی وہ تو لدھیانہ کے بعض مولویوں کی اشتعال انگیزی پر اپنے جوش غضب کا مظاہرہ کرنے کو آئے تھے جو کرتے رہے۔اسی موقعہ پر ایک شخص نے یہ سوال بھی کیا کہ آپ بھی پیشگوئیاں فرماتے ہیں اور نجومی اور رمال بھی کرتے ہیں ہمیں صداقت کا پتہ کس طرح لگے ؟ حضور نے فرمایا کہ الہی نصرت نجومیوں اور رمالوں کے ساتھ نہیں ہوتی لیکن انبیاء علیہم السلام اور مامورین کو نصرت اور کامیابی ملتی ہے وہ اور ان کی جماعت روز بروز ترقی کرتی اور ان کا اقبال ترقی کرتا ہے خدا کے مامور کا حوصلہ دیکھو کہ میر عباس علی صاحب تو لدھیانہ والوں کا بے جاجوش دیکھ کر گبھرا جاتے مگر حضرت کے چہرے پر قطعا مال کے آثار نہیں تھے اور آپ پوری تسلی اور اطمینان کے لب ولہجہ میں انہیں فرماتے تھے کہ یہ لوگ جو کچھ کرنا چاہتے ہیں ان کو کرنے دو۔آخر تھوڑی دیر بعد جب منشی رحیم بخش صاحب نے دیکھا کہ معاملہ طول کھینچ رہا ہے اور مخالفت لمحہ بہ لمحہ بڑھ رہی ہے تو انہوں نے کمال عقل مندی سے کہدیا کہ میں حضرت صاحب کو زیادہ تکلیف نہیں دینا چاہتا آپ لوگوں کے شکوک کے جواب حضرت صاحب نے کافی طور پر دے دیتے ہیں حضور کو تکان ہے چنانچہ حضرت اقدس واپسی کا قصد کر کے اٹھے تو صوفی احمد جان صاحب رضی اللہ عنہ نے میر عباس علی صاحب کو مشورہ دیا کہ مولوی عبد العزیز صاحب فساد کے خوگر ہیں دوسرے رستہ سے چلنا چاہئے۔حضرت اقدس نے جو قریب ہی کھڑے سن رہے تھے۔اس موقعہ پر بھی کوہ استقلال بن کر ارشاد فرمایا نہیں اسی راستہ سے چلیں گے جس راستہ سے اندیشہ کیا جاتا ہے غرض فورا حضور اسی راستہ سے ڈپٹی امیر علی صاحب کے مکان تک تشریف لائے اور راستہ میں کسی شخص کو مزاحم ہونے کی جرات نہیں ہو سکی۔چوڑے اور اونچے بازار کے سرے تک پہنچے تو لالہ ملا وامل نے میر عباس علی صاحب کو وہ رؤیا یاد دلایا جو حضور نے لدھیانہ والوں کی مخالفت کے متعلق لکھا تھا اور ان سے پوچھا کہ وہ رویا پورا ہو گیا ؟ میر عنایت علی صاحب نے جو اس وقت حضرت اقدس کے ہمراہ تھے پیچھے مڑ کر دیکھا تو فی الواقع میر صاحب کے سوا اور کوئی نہیں تھا۔اس وقت خود میر عباس علی صاحب نے کھلا اقرار کیا کہ حضور کی رو یا کمال صفائی سے پوری ہو گئی ہے۔اگلے دن صوفی احمد جان صاحب کے ہاں دعوت کا انتظام تھا دعوت ختم ہوئی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ وہ بھی مزید برکت کے لئے ہمراہ ہو گئے۔رستہ میں انہوں نے حضرت کے استفسار پر عرض کیا کہ میں نے بارہ چودہ سال رنز چھتڑ کی گدی میں مجاہدات