تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 235 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 235

تاریخ احمدیت جلدا ۲۳۴ حضرت اقدس کا پہلا سفر لدھیانہ امیر علی صاحب کے مکان کی طرف روانہ ہوئے۔حضرت اقدس کے ساتھ اس وقت ایک بڑا مجمع تھا گویا ایک جلوس کی سی شکل تھی۔جب مکان پر پہنچے تو نماز عصر کا وقت ہو چکا تھا۔حضور نے پہنچتے ہی وضو کیا اور آخر میں اپنی مالیدہ کی جرابوں پر مسح کیا۔بعض لوگوں نے جو موجود تھے جب آپ کو پاؤں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا آپس میں اس کے جواز کے متعلق سرگوشیاں کیں۔حضرت اقدس جب وضو کر کے مسجد محلہ صوفیاں کے اندر تشریف لائے تو مولوی موسیٰ صاحب نے استفسار کیا کہ حضور اس پر مسح جائز ہے ؟ حضور نے فرمایا جائز ہے۔امامت کے لئے عرض کیا گیا تو فرمایا نہیں نماز مولوی عبد القادر صاحب پڑھا ئیں گے چنانچہ جب تک حضرت اقدس کالدھیانہ میں قیام رہا نماز فجر کے سوا جس میں حضور خود امامت کراتے تھے) باقی سب نمازیں مولوی صاحب ہی نے پڑھا ئیں۔بعض لدھیانوی علماء کی ہنگامہ آرائی! پہلے روز شام کو میر عباس علی صاحب نے حضرت اقدس کی خدمت میں کھانا پیش کیا۔دوسرے دن صبح کو قاضی خواجہ علی صاحب اور شام کو احمد جان صاحب کے ایک مرید منشی رحیم بخش صاحب نے دعوت کی۔لدھیانہ کی فضا اس وقت تک پر سکون تھی اور ابھی تک کوئی ناخوشگوار اور تلخ صورت پیدا نہیں ہوئی تھی۔لیکن اب شام کو جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام مولوی رحیم بخش صاحب کے ہاں تشریف لے گئے تو لدھیانہ کے بعض خدا نا ترس علماء کی ایک افسوسناک کارروائی سامنے آئی۔واقعہ یوں ہوا کہ حضرت اقدس آٹھ دس اصحاب کے ہمراہ منشی صاحب کے گھر پہنچے جہاں آپ کو پہلے تو ایک کھلے کمرے میں تشریف رکھنے کے لئے کہا گیا لیکن جب کھانا تیار ہو گیا تو حضور کو ایک چھوٹے سے کمرے میں بٹھا دیا گیا۔کھانا کھا چکے تو مولوی عبد العزیز لدھیانوی نے ہنگامہ آرائی کے لئے اپنا ایک ایلچی بھیج دیا۔جس نے آتے ہی حضرت صوفی احمد جان صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے مولوی عبد العزیز صاحب کہتے ہیں قادیان والے مرزا صاحب یا ہمارے ساتھ بحث کریں یا کوتوالی چلیں۔حضرت صوفی صاحب نے جواب دیا کہ ہم کیوں کو توالی چلیں کیا ہم نے کسی کا قصور کیا ہے ؟ اگر تمہارے مولوی صاحب نے کوئی بات دریافت کرنی ہے تو اخلاق و انسانیت کے ساتھ محلہ صوفیاں میں جہاں حضرت اقدس ٹھہرے ہوئے ہیں دریافت کرلیں حضرت صوفی صاحب نے اپنا جواب ختم کیا ہی تھا کہ خود میزبان یعنی منشی رحیم بخش صاحب نے انہیں یہ خبر سنائی کہ جس کمرہ سے آپ پہلے اٹھ کر آئے ہیں وہاں بعض لوگ جمع ہیں اپنے شکوک پیش کرنا چاہتے ہیں۔حضرت صوفی صاحب نے انہیں سمجھایا کہ حضرت صاحب کو سفر کی وجہ سے تکان ہے یہ لوگ حضرت اقدس کی قیام گاہ محلہ صوفیاں پر آجائیں لیکن حضرت مسیح موعود نے یہ سن کر فرمایا کہ نہیں ہم بیٹھیں گے اور ان لوگوں کی بات سنیں گے کہ وہ