تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 237
تاریخ احمدیت۔جلدا ۲۳۶ حضرت اقدس کا پہلا سفر لدھیانہ کئے ہیں جن سے میرے اندر اتنی زبر دست طاقت پیدا ہو گئی ہے کہ اگر میں اپنے پیچھے آنے والے آدمی پر توجہ کروں تو وہ ابھی گر جائے اور تڑپنے لگے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی عادت مبارک کے مطابق اپنی سوٹی کی نوک سے زمین پر نشان بناتے ہوئے فرمایا۔صوفی صاحب اگر وہ گر جائے تو اس سے آپ کو کیا فائدہ ہو گا اور اس کو کیا فائدہ ہو گا ؟ صوفی صاحب اہل باطن میں سے تھے یہ نکتہ سن کر پھڑک اٹھے اور اسی وقت حضور کے سامنے علم توجہ سے ہمیشہ کے لئے توبہ کر لی بلکہ اپنی معرکہ الاراء کتاب طب روحانی کو جس میں انہوں نے توجہ کے کمالات اور برسوں کے تجربات پر اتنی مفصل روشنی ڈالی تھی کہ لدھیانہ والوں نے انہیں مسیح دوران کے خطابات دے رکھے تھے) نہ صرف مرتے دم تک خود اٹھا کر نہیں دیکھا بلکہ اپنے مریدوں میں اشتہار دے دیا کہ علم توجہ اسلام سے مخصوص نہیں ہے اس لئے میں اعلان کرتا ہوں کہ آج سے میرا کوئی مرید ا سے دین اسلام کا جزو سمجھ کر استعمال نہ کرے۔حضرت صوفی صاحب نے طب روحانی " میں اعلان کیا تھا کہ اس سلسلہ میں نجات جاودانی" اور کمالات انسانی" کے نام پر دو مزید حصے بھی شائع ہوں گے اور عملاً ان کا مسودہ بھی تیار تھا لیکن اس کے بعد آپ نے وہ مسودہ لے کر چاک کر ڈالا بعض لوگوں نے جو "طب روحانی" سے بے حد متاثر تھے بڑے اصرار کے ساتھ آپ سے درخواست کی کہ وہ چیرا پھاڑا ہوا مسودہ ہی بھیج دیں تا اسی کو مرتب کر کے معلوم ہو سکے کہ کیا لکھا ہے لیکن آپ نے جواب دیا کہ " آن قدح شکست و آں ساقی نماند " پنجاب میں ایک آفتاب نکلا ہے جس کے سامنے ستارے رہبری نہیں کر سکتے۔اس آفتاب کا نام مرزا غلام احمد ہے انہوں نے ایک کتاب براہین احمدیہ " لکھی ہے اسے منگوا کر پڑھو"۔" زائرین کا ہجوم اور حضور کی مجلس علم و عرفان بهر کیف زبر دست مخالفت کے باوجود جو آپ کی آمد پر اٹھائی گئی تھی لدھیانہ کے گرد و نواح سے روزانہ ہی صبح و شام بڑی کثرت سے لوگ حاضر ہوتے تھے۔علماء اور رؤساء کا تو ایک تانتا بندھا رہتا تھا۔بالخصوص حضرت صوفی احمد جان صاحب نقشبندی ، مولوی شاه دین صاحب مولوی محمد حسن صاحب رئیس اعظم لدھیانہ نواب علی محمد خان صاحب حجر، پیر سراج الحق صاحب نعمانی تو پروانوں کی طرح آپ کے گرد رہتے تھے۔حضرت صوفی احمد جان صاحب خود ایک بڑی جماعت کے روحانی پیشوا تھے لیکن وہ حضرت اقدس کی مجلس میں نہایت اخلاص وارادت کے ساتھ دو زانو ہو کر با ادب بیٹھتے اور عقیدت مند مریدوں کی طرح آپ کے کلمات طیبات سنتے اور فیض اٹھاتے۔یہی حال پیر سراج الحق صاحب نعمانی کا تھا۔حضرت کی مجلس میں ہر قسم کے دینی مسائل کا تذکرہ ہو تا تھا اور حضور بڑی دیر تک حقائق و معارف کے خزانے لٹاتے اور لوگ مالا مال ہوتے تھے۔چنانچہ ایک مرتبہ حضور