تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 234 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 234

تاریخ احمدیت جلدا ۲۳۳ حضرت اقدس کا پہلا سفر لدھیانہ لئے نہایت بے قراری سے چشم براہ تھے کہ حضور اطلاع کے مطابق اپنے تین خدام حافظ حامد علی صاحب مولوی جان محمد صاحب اور لالہ ملا وامل صاحب کی رفاقت میں لدھیانہ اسٹیشن پر تشریف لے آئے۔یہ ۱۸۸۴ء کی پہلی سہ ماہی کا واقعہ ہے۔اسٹیش پر زائرین کا بے پناہ ہجوم تھا یوں معلوم ہو تا تھا کہ پورا شہر امڈ آیا ہے۔لدھیانہ کے دوستوں میں میر عباس علی صاحب کے سوا کوئی بھی حضور کی شکل مبارک سے واقف نہیں تھا اس لئے جب گاڑی کا وقت قریب آیا تو میر صاحب اور انکے ساتھ بہت سے دوست پلیٹ فارم کے اندر چلے گئے اور لوگوں کی نظریں اس طرف جم گئیں کہ میر صاحب جس بزرگ سے مصافحہ کریں گے وہی حضرت اقدس ہوں گے لیکن اتفاق یہ ہوا کہ حضور اپنے خدام کے جھرمٹ میں گاڑی کے اگلے ڈبوں سے اتر کر پھاٹک کی طرف تشریف لے آئے۔پھاٹک پر اس وقت سید میر عنایت علی صاحب کھڑے تھے - جو یہ خیال کر کے پہلے ہی سے یہاں آگئے تھے کہ حضرت اقدس بہر حال یہیں سے گزریں گے۔اور گو انہیں حضور کی زیارت کا قبل ازیں موقعہ نہیں ملا تھا مگر آنے والے مسافروں میں سے جونہی ان کی نظر حضور کے مقدس اور نورانی چہرے پر پڑی وہ نورا بھانپ گئے کہ حضرت اقدس ہی ہیں اور جھٹ مصافحہ کرتے ہوئے دست بوسی کر لی۔اس موقعہ پر حضرت صوفی احمد جان صاحب نے بھی جیسا کہ انہوں قبل از وقت بتا دیا تھا اسٹیشن پر حضور کو دیکھتے ہی بتا دیا کہ حضرت اقدس یہ ہیں حضرت صوفی صاحب کے ساتھ اس وقت ان کے دونوں فرزند یعنی حضرت پیر منظور محمد صاحب اور حضرت پیر افتخار احمد صاحب اور متعدد مرید شاگرد مثلاً مولوی اب الدین صاحب بھی موجود تھے جو ان دنوں تحصیل علم کی خاطر لدھیانہ میں مقیم تھے۔مولوی صاحب کا کہنا ہے کہ حضور کو دیکھتے ہی میری زبان سے نکلا هذَا لَيْسَ وَجْهُ كَاذِب اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو باہر تشریف لاچکے تھے مگر میر عباس علی صاحب اور ان کے ساتھی ابھی تک آپ کی تلاش میں سرگرداں تھے۔جب انہیں اس میں کامیابی نہ ہوئی تو وہ بھی مختصر وقفہ کے بعد باہر آگئے اور حضور کو دیکھتے ہی مصافحہ کے لئے لیکے ان کا مصافحہ کرنا ہی تھا کہ زائرین شوق دیدار میں ٹوٹ پڑے۔نواب علی محمد صاحب رئیس آف میجر نے میر عباس علی صاحب سے کہا کہ میری کو ٹھی قریب ہے اور اس کے گرد باغ بھی ہے بہت لوگ حضرت اقدس کی زیارت کے لئے آئیں گے۔اگر آپ اجازت دیں تو حضرت صاحب کو یہیں ٹھہرالیا جائے۔میر صاحب نے کہا کہ آج کی رات یہ مبارک قدم میرے غریب خانے پر پڑنے دیں کل آپ کو اختیار ہے۔نواب صاحب موصوف مان گئے اور حضرت اقدس علیہ السلام قاضی خواجہ علی صاحب کی شکرم میں بیٹھ کر محلہ صوفیاں میں ڈپٹی