تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 226
تاریخ احمدیت۔جلدا ۲۲۵ مسجد مبارک کی تعمیر ہمیشہ ناگوار گزرتا تھا لیکن اگر وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرح کشفی آنکھ سے کبھی یہ دیکھ پاتے کہ جس جائیداد کی واپسی کی خاطر وہ اپنی عمر د دولت ضائع کر رہے ہیں وہی آپ کے چھوٹے بھائی کی روحانی برکتوں کے طفیل کچھ عرصہ بعد خود بخود ان کے خاندان میں منتقل ہو جائے گی اور پھر حضرت مسیح موعود اور آپ کے خاندان کی روحانی عظمت کا سکہ ساری دنیا پر بیٹھ جائے گا تو ممکن نہیں تھا کہ وہ اس حقیر اور معمولی مقصد کا خیال تک دل میں لاتے۔انہیں حضرت مسیح موعود نے مقدمہ میں ناکامی کی قبل از وقت خبر بھی دی مگر وہ اپنی افتاد طبع کے باعث اپنی رائے بدلنے پر قادر نہیں ہو سکے۔اس خالص دینی نقطہ نگاہ سے قطع نظر وہ بڑے منطنے کے انسان تھے شکل و شباہت نہایت درجہ پر رعب پائی تھی انہوں نے محکمہ شہر اور ضلع گورداسپور کے دفتر میں ایک لمبا عرصہ ملازمت کی اور ہر جگہ اپنی اصابت رائے اور معاملہ ضمی سے حکومت کے بڑے بڑے افسروں کو اپنا مداح بنا لیا۔وہ شجاعت اور غریب پروری کی نہایت اعلیٰ صفات سے پوری طرح متصف تھے۔آپ کو اگرچہ حضرت اقدس کے روحانی مشرب سے کوئی مناسبت نہیں تھی مگر آپ حضور کا احترام کرتے تھے۔آپ کے روحانی کمالات شب بیداری اور دعاؤں کی قبولیت کے قائل تھے۔خاندانی مذاق کے موافق شعر و شاعری میں بھی درک تھا اور مفتون مخلص کرتے تھے۔مرزا غلام قادر صاحب مرحوم لا ولد تھے اور ان کی جائیداد کے بھی آپ ہی وارث تھے ان کے درثاء میں آپ کے سوا کوئی اور شخص ہو تا تو اپنے بھائی کی وفات کے معا بعد اس جائیداد پر قابض ہو جا تا مگر آپ نے اس موقعہ پر یہ شاندار نمونہ پیش فرمایا کہ آپ نے اپنی بھاوج حرمت بی بی صاحبہ کی دلداری کے لئے جائیداد پر قبضہ نہیں کیا بلکہ پوری جائیداد اپنے فرزند اور ان کے متبنی حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب کے زیر انتظام کر دی اور خود بدستور اعلائے کلمتہ الاسلام ہی میں مصروف رہے۔بعد کو جب وہ ملازم ہو گئے اور جائیداد تقسیم ہو کر نصف ترکہ آپ کے نام درج ہو گیا تب بھی آپ کو ان معاملات میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔مرزا اسمعیل بیگ صاحب یا دو سرے خدام اس کی نگرانی کرتے تھے اور جو کچھ وہ لا دیتے حضرت اقدس تحقیق کئے بغیر وصول کرلیتے۔بعض اوقات ایسا ہوتا کہ بعض ہوشیار کارندے چالاکی سے آپ کو نقصان بھی پہنچادیتے۔مگر آپ ان باتوں سے بالکل بے نیاز ہو کر اپنی دینی خدمت میں مستغرق رہتے تھے۔در اصل بات یہ تھی کہ آپ کی بھاوج نے حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کو رسمی طور پر مبنی قرار دیا تھا اور درخواست کی تھی کہ اسے نصف حصہ دے دیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تہنیت کے سوال پر تو صاف صاف کہدیا کہ اسلام میں یہ جائز نہیں ہے۔مگر محض ان کی دلداری کی خاطر آدھی جائداد مرز اسلطان احمد صاحب کے