تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 227 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 227

تاریخ احمدیت۔جلدا مسجد مبارک کی تعمیر نام لکھ دی اور یہ سمجھ لیا کہ آپ نے ان کا حصہ اپنی زندگی میں ادا کر دیا ہے مرزا غلام قادر صاحب مرحوم نے اپنی زندگی میں ڈگری ہونے کے باوجود فریق مخالف کو جائیداد سپرد نہیں کی تھی۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کی وفات کے بعد جہاں مرزا سلطان احمد صاحب کو نصف جائیداد دی وہاں انہیں بلا کر قبضہ دے دینے کا ارشاد بھی فرمایا۔نیز اراضی کی تقسیم کے متعلق نصیحت فرمائی کہ شرکاء جس طرح چاہیں تقسیم کر لیں تم دخل نہ دینا اور تسلیم کرلینا۔چنانچہ اس موقعہ پر خاندان کے ایک قدیم کارکن کی طرف سے (جو اس وقت مرزا اعظم بیگ ہی کے ملازم تھے ) اگر چہ یہ مشورہ بھی دیا گیا کہ دہ مرزا غلام قادر صاحب مرحوم کی طرح تقسیم قبول کرنے پر ہرگز آمادہ نہ ہوں۔مگر انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حکم کی تعمیل میں فریق مخالف کو قبضہ بھی دے دیا اور جائیداد کا ایک حص نہایت سستے داموں فروخت کر کے اخراجات مقدمہ میں ادا کر دئیے مقام ماموریت سے متعلق بعض مزید تفصیلات ماموریت کا وہ منصب جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ۱۸۸۲ء میں عطا ہوا تھا اس کے متعلق بعض مزید تفصیلات اس سال آپ پر ظاہر کر دی گئیں اور آپ کو بتایا گیا کہ آپ محدث اللہ عیسی دوران اور خدا کے نبی ہیں۔عجیب بات یہ ہے کہ جیسا کہ یہودی تاریخ کے مطابق حضرت مسیح ناصری اپنے متبوع حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ولادت سے ٹھیک ۱۲۷۲ برس بعد پیدا ہوئے تھے اسی طرح حضرت اقدس علیہ السلام کو بھی رسول اکرم ﷺ کے دعوئی رسالت سے ٹھیک ۱۲۷۲ برس بعد "عیسی " کے عہدے پر سرفراز فرمایا گیا۔آنحضرت ا نے ۶۱۰ء میں دعویٰ نبوت فرمایا اور ٹھیک ۱۲۷۲ سال بعد ۱۸۸۳ء میں یہ الہامات نازل ہوئے گویا مسیح موسوی کا جسمانی اور مسیح محمدی کا روحانی ظہور اپنے اپنے دائرہ میں ایک ہی سال میں وقوع میں آیا۔الر جیسا کہ ابتدا میں بتایا جا چکا ہے ان الہامات کے نزول کے ساتھ تصرف الہی سے یہ ہوا کہ آپ پر اپنی بعثت کے ابتدائی ایام میں یہ راز بالکل نہیں کھلا کہ اللہ تعالی نے آپ کو مسیح بنا کر بھیجا ہے اور آپ نے براہین احمدیہ حصہ چہارم میں یہ رسمی عقیدہ بھی درج فرما دیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔حضرت مسیح موعود کا اس زمانہ میں اپنے قلم سے مسیح ناصری کی دوبارہ آمد کا اقرار کرنا خدائی مصلحت کے مطابق اور حضور کی سادگی اور عدم بناوٹ پر ایک چمکتا ہوا نشان تھا۔چنانچہ بعد کو جب دعوئی مسیحیت کے وقت آپ پر حیات مسیح کے متعلق گذشتہ عقیدہ کی آڑ میں اعتراضات کئے گئے تو آپ نے صاف جواب دیا کہ ”جب تک مجھے خدا نے اس طرف توجہ نہ دلائی اور بار بار نہ