تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 225 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 225

تاریخ احمدیت جلدا ۲۲۴ مسجد مبارک کی تعمیر قبل از میں الہاما بتایا جا چکا تھا کہ پندرہ دن تک ان کی عمر کا خاتمہ یقینی ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا تعالیٰ کی بے انتہا قدرتوں کا نظارہ کرنے کے لئے جناب اللی کی طرف توجہ کی چنانچہ خدا کے فضل اور آپ کی روحانی توجہ اور دعا کی برکت سے پندرہ دن پندرہ سالوں میں بدل گئے اور مرزا غلام قادر صاحب جو اپنی زندگی کے دن پورے کر چکے تھے "زندہ ہو کر چند روز تک بالکل صحت یاب ہو گئے اور اس کے بعد پندرہ برس تک بقید حیات رہے۔مرزا غلام قادر صاحب مرحوم کی وفات کا فوری سبب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ مرزا اعظم بیگ لاہوری سابق اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر نے بعض بے دخل شرکاء کی طرف سے آپ کی خاندانی جائیداد میں حصہ دار بننے کے لئے نالش دائر کر دی۔اور مرزا غلام قادر صاحب اپنی کامیابی کو یقینی سمجھتے ہوئے مقدمہ کی پیروی میں مصروف ہو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں بھی اور خاندان کے دوسرے تمام افراد کو بھی کھول کھول کر سنا دیا تھا کہ ہمارے لئے مقدمہ میں فتح یابی مقدر نہیں ہے اس لئے اس سے دستبردار ہونا چاہیے۔لیکن وہ ماننے کے لئے تیار نہ ہوئے اور انہوں نے جواب دیا کہ اب ہم مقدمہ میں بہت کچھ خرچ کر چکے ہیں۔اگر پہلے کہتے تو ہم مقدمہ نہ کرتے مگر یہ بے حقیقت بات تھی۔دراصل انہیں اپنی کامیابی کا ابتداء سے کامل یقین تھا اور ماتحت عدالت میں کامیاب بھی ہو گئے مگر بالا خر چیف کورٹ میں ان کے خلاف ڈگری ہوئی اور تمام عدالتوں کا خرچہ بھی ان کے ذمے پڑا۔اور پیروی مقدمہ میں جو بھاری قرضہ اٹھایا تھا وہ بھی ادا کرنا پڑا۔جس وقت ڈگری ہو جانے کی خبر آئی تو اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے کمرے میں تھے مرزا غلام قادر صاحب باہر سے کانپتے ہوئے ڈگری کا پرچہ ہاتھ میں لئے اندر آئے اور حضرت کے سامنے وہ کاغذ ڈال دیا اور کہا ” لے غلام احمد جو تو کهند ای او ہوائی ہو گیا اے"۔یعنی دیکھو غلام احمد جو تم کہتے تھے وہی ہو گیا ہے۔اور پھر غش کھا کر گر گئے۔بہر حال انہیں ڈگری سے شدید صدمہ ہوا۔اور وہ اس غم میں سخت بیمار ہو گئے اور یہی بیماری جان لیوا ثابت ہوئی۔آپ تقریباً دو سال اس بیماری میں مبتلا رہے۔جس دن آپ کی وفات مقدر تھی۔اس کی صبح کو حضرت اقدس کو الہام ہوا کہ ”جنازہ " اور شام کے بجے وہ انتقال کر گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یاد الہی اور خدمت دین میں جس درجہ استغراق تھا اسی قدر شیفتگی اپنے والد بزرگوار کے بعد مرزا غلام قادر صاحب کو دنیوی معاملات میں تھی۔ایک کا دل اسلام کی گم گشتہ حکومت کو دنیا بھر میں قائم کرنے کے لئے ہر لمحہ مضطرب اور بے قرار تھا اور دوسرے کے مد نظر فقط قادیان کی مٹی ہوئی ریاست کے باقی ماندہ نقوش کا رنگ و روغن اور ان کی حفاظت تھی۔مطرح نظر کا یہ بعد المشرقین ہی تھا جس کی وجہ سے انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ مسلک