تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 224
تاریخ احمدیت۔جلدا ۲۲۳ مسجد مبارک کی تعمیر نے۔ناقل ) " بڑی انکساری سے میری طرف خط لکھا کہ میں ان کے لئے دعا کروں۔تب میں نے اس کو قابل رحم سمجھ کر اس کے لئے دعا کی تو خدا تعالٰی نے مجھ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ سرکوبی سے اس کی عزت بچائی گئی۔میں نے یہ اطلاع بذریعہ خط ان کو دے دی اور کئی اور لوگوں کو بھی جو ان دنوں میں مخالف تھے یہی اطلاع دی۔چنانچہ منجملہ ان کے حافظ محمد یوسف ضعدار نهر حال پیشنز ساکن امرت سر اور مولوی محمد حسین بٹالوی بھی ہیں۔حافظ صاحب کا یہ بھی بیان ہے کہ میں نے ” براہین احمدیہ کی خریداری کے لئے نواب صاحب کی طرف سے درخواست کی آپ نے اس کو منظور نہ فرمایا۔ہر چند عرض کیا گیا آپ راضی نہ ہوئے فرمایا میں نے رحم کر کے ان کے لئے دعا کر دی ہے اور خدا تعالٰی کے فضل سے وہ اس عذاب سے بچ جائیں گے میرا یہ فعل شفقت کا نتیجہ ہے ایسے شخص کو جس نے کتاب کو اس ذلت کے ساتھ واپس کیا میں اب کسی قیمت پر بھی کتاب دینا نہیں چاہتا۔یہ میری غیرت اور ایمان کے خلاف ہے۔ان لوگوں کو جو میں نے تحریک کی تھی خدا تعالی کے مخفی اشارہ کے ماتحت اور ان پر رحم کر کے کہ یہ لوگ دین سے غافل ہوتے ہیں براہین کی اشاعت میں اعانت ان کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے اور خدا تعالیٰ انہیں کسی اور نیکی کی توفیق دے۔ورنہ میں نے ان لوگوں کو کبھی امید گاہ نہیں بنایا۔ہماری امید گاہ تو اللہ تعالی ہی ہے۔اور رہی کافی ہے نواب صاحب سنگین مقدمہ میں پانچ سال تک مبتلا رہے اور بالاخر اللہ تعالٰی نے اپنے وعدہ کے موافق انہیں حکومت کے مواخذہ سے بھی بچالیا اور ان کے خطابات بھی بحال کر دئیے گئے۔لیکن افسوس وہ بحالی کی خبر ملنے سے پہلے ہی اس دار فانی سے چل ہے۔مرزا غلام قادر صاحب (برادر اکبر) کی رحلت حضرت مسیح موعود کی شفیق والدہ آپ سے ۱۸ اپریل ۱۸۷۷ء کو اور والد بزرگوار ۲- جون ۱۸۷۶ء کو جدا ہو چکے تھے اب ۱۸۸۳ ء میں والد بزرگوار کے انتقال کے سات سال بعد آپ کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر صاحب بھی 9 جولائی کو رحلت فرما گئے۔وفات کے وقت ان کی عمر پچپن سال کے لگ بھگ تھی جو دراصل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا کا نتیجہ تھی ورنہ وہ تو پندرہ سال پہلے ہی لقمہ اجل ہو چکے ہوتے کیونکہ انہیں کم و بیش چالیس سال کی عمر میں ایک شدید بیماری لاحق ہو گئی تھی اور وہ ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ رہ گئے تھے اور نقاہت کا یہ عالم ہو گیا تھا کہ چارپائی پر لیٹتے تو کسی کو احساس تک نہ ہوتا کہ یہاں کوئی شخص پڑا ہے۔ان کی یہ حالت دیکھ کر حضرت اقدس کے والد بزرگوار نے جو ایک حاذق طبیب تھے صاف کہدیا کہ اب یہ چند دن کا مہمان ہے بلکہ خود حضرت مسیح موعود کو بھی