تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 193
تاریخ احمدیت جلدا ۱۹۲ براہین احمدیہ کی تصنیف و اشاعت اور امراء کو سینکڑوں دستی خطوط لکھے۔کتاب کی روانگی کے لئے ایک مفصل فہرست مرتب فرمائی۔حضور خود اپنے ہاتھ سے پیکٹ تیار کرتے۔ان پر اپنے ہاتھ سے مرسل الیہ کا پتہ تحریر فرماتے المختصر آپ کی زندگی کا یہ دور مسلسل جہاد تھا۔براہین احمدیہ کا التواء ۱۸۸۴ء میں براہین احمدیہ کا حصہ چہارم چھپا اور اسی حصہ کے آخر میں آپ نے یہ اطلاع شائع کی کہ ابتداء میں جب یہ کتاب تالیف کی گئی تھی اس وقت اس کی کوئی اور صورت تھی۔پھر بعد اس کے قدرت اللہ کی ناگہانی تجلی نے اس احقر عباد کو موسیٰ کی طرح ایک ایسے عالم سے خبر دی جس سے پہلے خبر نہ تھی۔یعنی یہ عاجز بھی حضرت ابن عمران کی طرح اپنے خیالات کی شب تاریک میں سفر کر رہا تھا کہ ایک دفعہ پردہ غیب سے انی انار بک کی آواز آئی اور ایسے اسرار ظاہر ہوئے کہ جن تک عقل اور خیال کی رسائی نہ تھی۔سو اب اس کتاب کا متولی اور مہتمم ظاہر و باطنا حضرت رب العالمین ہے"۔چنانچہ اللی منشاء کے ماتحت تئیس سال تک براہین احمدیہ معرض التواء میں رہی اور آخر ۱۹۰۵ ء میں اس کا پانچواں اور آخری حصہ تصنیف ہو کر اکتوبر ۱۹۰۸ء میں شائع ہوا۔یہ حصہ مضمون کے اعتبار سے ابتدائی حصوں کے تسلسل میں نہیں تھا۔کیونکہ اس تئیس سالہ دور میں آپ ماموریت کے تاج سے سرفراز ہو کر قرآنی صداقتوں کے لاکھوں نشانوں کا جلوہ گاہ بن گئے تھے اور براہین احمدیہ " کے موعودہ تین سو دلائل کا ذکر ہی کیا آپ کے قلم و زبان سے اسلام اور قرآن مجید کی سچائی کے علمی اور عملی زندہ اور درخشاں دلائل کا ایک غیر محدود سمندر اور بکرنا پیدا کنار ٹھاٹھیں مارتا دکھائی دے رہا تھا۔اس لئے براہین احمدیہ کے حصہ پنجم پر قلم اٹھانے کی تحریک ہوئی تو براہین احمدیہ کے باقی ماندہ مضمون کو جس کے بغیر یہ تصنیف اب تک بالکل نا تمام صورت میں پڑی تھی شامل اشاعت کرنے کی چنداں ضرورت ہی نہیں سمجھی گئی۔اس کے بر عکس اس میں معجزہ کی حقیقت اور اپنے دعاوی کے متعلق دوسرے مباحث بیان کرتے ہوئے فقط ان پیشگوئیوں کا ذکر فرما دیا گیا جو ابتدائی حصوں میں کی گئی تھیں۔اور پھر برسوں کے بعد ناموافق بلکہ سراسر مخالف حالات میں بڑی شان سے پوری ہو ئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس لطیف اور پر حکمت اسلوب و انداز نے اسے پہلی تصنیف سے بھی مربوط کر دیا اور دنیا پر اتمام حجت بھی قائم ہو گئی اور یہی براہین احمدیہ کی تصنیف اور آپ کی آمد کا حقیقی مقصد تھا۔براہین احمدیہ کی تعویق پر بعض لوگوں کی طرف سے قیمت کتاب کی واپسی کا اعلان اعتراضات ہوئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پہلی دفعہ یکم مئی ۱۸۹۳ ء میں۔اور اس کے بعد کئی مرتبہ اعلان فرمایا کہ جن خریداروں کو اس خدائی