تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 194 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 194

تاریخ احمدیت۔جلدا ١٩٣ براہین احمدیہ کی تصنیف و اشاعت توقف پر شکوہ اور سوء ظن ہو وہ کتاب واپس کر کے اپنی قیمت لے سکتے ہیں۔چنانچہ وہ تمام لوگ جو اس قسم کی جہالت میں جتلا تھے انہوں نے کتابیں بھیج دیں اور حضرت اقدس نے انہیں قیمت واپس کردی اور بعض نے کتابوں کو بہت خراب اور خستہ حالت میں واپس کیا مگر آپ نے قیمت کی واپسی میں ایک لحہ کے لئے بھی تامل نہیں کیا۔بلکہ بعض بگڑی ہوئی زہنیتوں کی روش دیکھ کر یہاں تک کہا کہ وفات شدہ خریداروں کے درثاء بھی کتاب واپس کرنا چاہیں تو وہ چار معتبر مسلمانوں کی تصدیق بھجوا دیں انہیں بھی فی الفور قیمت ادا کر دی جائے گی۔دوسری طرف براہین احمدیہ کی آڑ میں گند اچھالنے والوں کے لئے معافی کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا ”میں ایسے صاحبوں کی بد زبانی اور بد گوئی اور دشنام دہی کو بھی محض اللہ بخشتا ہوں کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ کوئی میرے لئے قیامت میں پکڑا جائے۔E براہین احمدیہ کی تصنیف کا ذکر کرتے ہوئے ہم ۱۸۸۴ء تک جاپہنچے تھے۔اب دوبارہ مضمون کے ۵۴ تسلسل میں ۱۸۸۰-۱۸۸۱ء کی طرف پلٹتے ہیں۔الہامات کیلئے روزنامچہ نویس کا تقرر اس وقت تک حضرت مسیح پاک علیہ الصلوۃ والسلام کا معمول یہ تھا کہ اللہ تعالی کی طرف سے حضور کو جو اہم خبریں ملتیں وہ اپنے حلقہ احباب تک پہنچادیتے۔قادیان میں آپ ہندوؤں میں سے لالہ ملا وامل لالہ شرمپت رائے اور کشن سنگھ کو اور مسلمانوں میں سے میاں جان محمد مرحوم امام مسجد کو ان سے آگاہ رکھتے تھے اور بعض بیرونی احباب مثلا لالہ عظیم سین صاحب وکیل اور حافظ ہدایت علی صاحب ڈپٹی ضلع وغیرہ کو بھی وقتا فوقتا ان سے تحریری اطلاع دیتے رہتے تھے۔لیکن اب آپ نے الہامات لکھنے کے لئے بطور روزنامچہ نویس ایک نو کر رکھ لیا جس کا نام پنڈت شام لال تھا اور جو ناگری اور فارسی دونوں میں لکھ سکتا تھا۔یہ برہمن نژاد فارسی اور ناگری میں اپنے دستخطوں کے ساتھ حضرت کے الہامات و مکاشفات روزنامچہ میں درج کرتا رہتا تھا۔یہ شخص ایک عرصہ تک اس عہدہ پر متعین رہا۔لیکن جب پنڈت لیکھرام قادیان میں آیا تو اس نے اسے دباؤ ڈال کر اس خدمت سے الگ کرالیا۔اور گوہ علیحدگی کے بعد بھی مخفی طور پر ملازمت کرتا رہا۔مگر خدا کے زندہ اور روشن نشانوں کے لکھنے میں آپ کے مد نظر اتمام حجت کی جو غرض تھی اس کے لئے اس طرز کی پوشیدہ ملازمت سراسر بے فائدہ اور بے کار تھی۔اس لئے حضرت اقدس نے خود ہی اسے بر طرف کر دیا اور پھر ایک اور ہندو برہمن کالیہ ہوار اس کو یہ خدمت سپرد کردی۔لیکن جب زمانہ ماموریت میں مکالمات اللہ کی شہادت کا میدان پورے ملک کو محیط ہو گیا تو اس التزام کی ضرورت ہی نہ رہی۔