تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 191 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 191

تاریخ احمدیت جلدا بھیجوایا کرے۔19۔براہین احمدیہ کی تصنیف و اشاعت براہین احمدیہ کس کس پریس میں چھپی براہین احمدیہ کی طباعت کا انتظام شروع میں حضور نے پادری رجب علی کے مطبع سفیر ہند میں فرمایا۔کیونکہ اختلاف مذہب کے باوجود پادری موصوف کو دلی شغف تھا کہ کام کی عمدگی اور خوبی اور صحت میں کوئی کسر نہ رہ جائے اور حضرت اقدس کا منشاء مبارک بھی " براہین احمدیہ " کو کتابت و طباعت کے لحاظ سے معیاری اور دیدہ زیب بنانے کا تھا۔بلکہ ایسی بے جا کفایت شعاری کو جو کتاب کے ظاہری حسن کو ماند کر دے آپ شرک قرار دیا کرتے تھے اس لئے مطبع کے گراں نرخ اور بھاری اخراجات کے باوجود آپ کی نظر انتخاب اس پر پڑی۔چنانچہ کتاب کا حصہ اول اسی مطبع میں چھپا اور اس کے پہلے پر نٹر شیخ نور احمد صاحب نے جو فن طباعت میں بہترین ماہر مانے جاتے تھے اور جنہیں کچھ عرصہ قبل پادری رجب علی صاحب نے مراد آباد سے خاص طور پر بلا کر ان کے سپرد اپنے مطبع کا اہتمام کر رکھا تھا۔حصہ اول کی اشاعت کے بعد چونکہ شیخ نور احمد صاحب نے مطبع "سفیر ہند" چھوڑ کر مطبع ریاض ہند" کے نام سے قریب ہی اپنا ذاتی مطبع قائم کر لیا تھا اس لئے پادری رجب علی صاحب نے کتاب کو گذشتہ معیار پر قائم رکھنے کے لئے شیخ نور احمد صاحب ہی کو کچھ اجرت پر اس کی طباعت کا کام دے دیا۔اور اس طرح اگلے دو حصے (حصہ دوم و حصہ سوم ) عملا تو "ریاض ہند میں طبع ہوئے مگر ان پر نام سفیر ہند " کا درج کیا گیا۔اسی رنگ سے کتاب کا حصہ سوم ریاض ہند میں چھپ رہا تھا کہ پادری صاحب نے حضرت صاحب سے روپے کا بار بار مطالبہ کرنا شروع کر دیا۔حالانکہ حضرت اقدس تو انہیں پیشگی روپیہ دے دیتے۔مگروہ کام کو معرض تأخیر میں ڈالتے جاتے تھے۔جب ان کے تقاضوں نے سخت تنگ کیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کچھ رقم لے کر قادیان سے امرت سریال بازار پہنچے۔جہاں چھاپہ خانہ دریافت کیا تو بتانے والے نے مطبع ریاض ہند کا پتہ بتا دیا۔چنانچہ حضور اس مطبع میں داخل ہوئے یہاں براہین احمدیہ کا تیسرا حصہ چھپ رہا تھا۔حضرت اقدس نے سمجھا کہ رجب علی کا یہی پریس ہو گا۔ملازموں سے آپ نے فرمایا کہ پادری رجب علی صاحب کو بلاؤ۔شیخ نور احمد صاحب (مہتمم مطبع) کا گھر قریب ہی تھا۔جب انہیں اطلاع ہوئی تو وہ جلد آگئے اور السلام علیکم کہہ کر مصافحہ کیا۔حضرت صاحب رجب علی صاحب کو تو جانتے تھے لیکن ان سے تعارف نہیں تھا۔ان کو دیکھ کر متعجب سے ہوئے اور فرمایا یہ پریس رجب علی کا ہے ؟ انہوں نے ادب سے عرض کیا کہ آپ ہی کا ہے۔پھر فرمایا کہ رجب علی صاحب کا پریس کہاں ہے اور یہ ہماری کتاب جو چھپ رہی ہے اس مطبع میں کیسے آئی؟ انہوں نے اصل واقعہ عرض کرتے ہوئے کہا کہ یہ ساری کتاب میں نے اپنے مطیع میں