تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 190
تاریخ احمدیت جلدا ١٨٩ براہین احمدیہ کی تصنیف و اشاعت عام پر آنے کے بھی اسباب مسدود کر دیئے تھے یقیناً براہین احمدیہ کی اشاعت ایک محیر العقول معجزہ تھی جو خداتعالی کی پہلے سے عطا کردہ بشارتوں اور حضور کی تحریرات کے عین مطابق ظہور میں آیا۔براہین احمدیہ ایسی ضخیم اور معرکتہ الاراء تصنیف کی طباعت و اشاعت در اصل ایک وسیع پیمانے پر چلنے والے اسلامی اداره یا ایک منظم جماعت کا کام تھا۔جو اللہ تعالی کی تائید خصوصی سے آپ نے تن تنہا کر دکھایا۔ابتدائی تصنیف کا مسودہ اس مقام پر " براہین احمدیہ " کی ترتیب - کتابت اور اشاعت کے متعلق بعض تاریخی کوائف کا بھی ذکر ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپریل ۱۸۷۹ء تک براہین احمدیہ کی تصنیف فرما چکے تھے اور مسودات کا حجم دو اڑھائی ہزار صفحہ تک پہنچ گیا تھا۔اور اس میں حضور نے اسلام کی صداقت میں تین سو ۳۰۰ ایسے زبر دست دلائل تحریر فرمائے کہ جن کے متعلق آپ کا دعوئی تھا کہ ان سے قرآن مجید کی سچائی اور رسول اکرم ا کی جلالت شان نیر النہار کی طرح روشن ہو جائے گی۔اور آپ نے ابتداء ہی میں یہ فیصلہ فرما لیا تھا کہ اشاعت کے مرحلے پر اصل مسودہ میں ایک حصہ بعض تمہیدی امور اور اہم حواشی وغیرہ کا اضافہ کیا جائے گا۔کتاب کے ابتداء میں انعامی اشتہار کا لگانا بھی شروع سے آپ کے مد نظر تھا چنانچه موجودہ شائع شده براہین احمدیہ کا اشتہار حصہ اول مقدمہ حصہ دوم اور حواشی سب دوران زمانہ اشاعت کے ہیں۔اور اس میں اصل ابتدائی تصنیف کا حصہ چند صفحات سے زیادہ نہیں آسکا۔مسودہ کو خوشخط نقل کرنے کے لئے آپ نے میاں خوشخط نقل اور کتابت کے مرحلے شمس الدین صاحب (جو آپ کے استاد فضل الہی صاحب کے بیٹے تھے) کی خدمات حاصل کرلی تھیں۔جب وہ مسودہ صاف اور شستہ خط میں نقل کر لیتے تو اسے منشی امام الدین صاحب کا تب امرت سری کو دے دیا جاتا۔جو امرت سر سے قادیان آگر حضور کی نگرانی میں کتابت کا کام کیا کرتے تھے۔جب کا پیاں تیار ہو جاتیں تو ان پر نظر ثانی فرماتے اور تصحیح کرنے کے بعد انہیں پریس تک پہنچانے کے لئے اکثر خود ہی امرت سر تشریف لے جاتے بعد میں حضور کو جب کا پہیوں کو پتھر پر جمادینے کی اطلاع دی جاتی تو پھر بنفس نفیس تشریف لے جاتے اور پروف پڑھنے کے لئے کئی روز تک حکیم محمد شریف صاحب کلانوری مرحوم وغیرہ کے یہاں قیام پذیر ہو نا پڑتا۔اس سفر میں آپ کے ساتھ کبھی کبھی لالہ ملاوائل اور لالہ شرمپت رائے ہوتے تھے۔بعض اوقات لالہ ملاوائل صاحب ہی کو کاپیاں دے کر بھیجوا دیا جاتا۔II حصہ چہارم کی طباعت کا زمانہ آیا تو پروف اور کاپیوں کو گاہے گاہے بذریعہ ڈاک بھی بھجوا دیتے تھے۔لیکن اس میں خاص احتیاط کرنا پڑتی تھی۔حضرت اقدس خود بھی رجسٹری کرتے اور پریس کے مہتم کو بھی یہ ہدایت تھی کہ وہ کاپیاں اور پروف رجسٹری