تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 189 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 189

تاریخ احمدیت جلد IAA براہین احمدیہ کی تصنیف و اشاعت مطمئن ہو بیٹھے کہ بس دینی فریضہ ادا ہو گیا ہے۔نواب صدیق حسن خان صاحب کا براہین کے متعلق ناروا طرز عمل ان حضرات میں " سب سے زیادہ ناروا طرز عمل نواب صدیق حسن خاں صاحب نے دکھایا۔نواب صاحب موصوف اہل حدیث فرقہ کے مشہور عالم تھے جنہیں ان کے بعض عقیدت مند ان کی وسیع اسلامی خدمات اور عالمانہ شان کی وجہ سے " مجد دوقت بھی قرار دیتے تھے۔چونکہ انہوں نے والیہ ریاست نواب شاہ جہاں بیگم سے شادی کرلی تھی اس لئے پوری ریاست کی باگ ڈور عملاً انہی کے سپرد تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں ایک درد مند دل رکھنے والے مسلمان رئیس کی حیثیت سے اعانت کی طرف جب پہلی مرتبہ توجہ دلائی تو انہوں نے پہلے تو رکھ رکھاؤ کا طریق اختیار کرتے ہوئے پندرہ میں نسخوں کی خرید پر آمادگی کا اظہار کیا۔مگر پھر دوبارہ یاد دہانی پر محض گورنمنٹ برطانیہ کے خوف سے دست کش ہو گئے اور یہ مصلحت آمیز جواب دیا کہ ”دینی مباحثات کی کتابوں کا خریدنا یا انہیں کچھ مدد دینا خلاف منشاء گورنمنٹ انگریزی ہے۔اس لئے اس ریاست سے خرید وغیرہ کی کچھ امید نہ رکھیں "۔اسی پر اکتفاء نہ کرتے ہوئے انہوں نے براہین احمدیہ " کا پیکٹ وصول کرنے کے بعد اسے چاک کر کے آپ کو واپس کر دیا۔( حافظ حامد علی صاحب کا بیان ہے کہ ) جب کتاب واپس آئی تو اس وقت حضرت اقدس اپنے مکان میں چہل قدمی کر رہے تھے۔کتاب کی یہ حالت دیکھ کر کہ وہ پھٹی ہوئی ہے اور نہایت بری طرح اس کو خراب کیا گیا ہے۔حضور کا چہرہ مبارک متغیر اور غصہ سے سرخ ہو گیا۔عمر بھر میں حضور کو ایسے غصہ کی حالت میں نہیں دیکھا گیا۔آپ کے چہرہ کو دیکھ کر ایسا معلوم ہو تا تھا کہ آپ میں ناراضگی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔آپ بدستور ادھر ادھر ٹہلتے تھے اور خاموش تھے کہ یکایک آپ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ نکلے "اچھا تم اپنی گورنمنٹ کو خوش کرلو"۔نیز یہ دعا کی کہ ان کی عزت چاک کر دی جائے۔اس کے بعد جب براہین احمدیہ کا چوتھا حصہ حضور نے تحریر فرمایا تو اس میں بھی حضرت اقدس نے نواب صاحب کے اس غیر اسلامی فعل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تحریر فرمایا کہ ”ہم بھی نواب صاحب کو امید گاہ نہیں بناتے بلکہ امید گاہ خداوند کریم ہی ہے اور وہی کافی ہے (خدا کرے گورنمنٹ انگریزی نواب صاحب پر بہت راضی رہے " (حضور کے یہ الفاظ کس طرح ایک انداری پیشگوئی کی شکل اختیار کر گئے۔اس کا بیان دوسری جلد میں آ رہا ہے) براہین احمدیہ کی اشاعت ایک معجزہ تھی ان حالات میں جبکہ اپنوں اور بیگانوں کی زبر دست مزاحمت نے براہین احمدیہ کے منظر