تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 188
تاریخ احمدیت جلدا (AL یر امین احمدیہ کی تصنیف دا شاعت امراء اور والیان ریاست نے اس طرف ذرا التفات نہیں کی اور سخت دنیا داری کا نمونہ دکھایا۔ان مسلمان رئیسوں کی زر پرستی اور دینی کاموں سے نفرت و حقارت کا یہ پہلا تجربہ اتنا تلخ اور نا خوشگوار تھا کہ حضور اسے اپنی زندگی کے آخر تک بھلا نہ سکے۔چنانچہ آپ نے ایک دفعہ اسلام کا دردناک نقشہ کھینچتے ہوئے فرمایا: مردم ذی مقدرت مشغول عشر تمائے خویش خرم و خندان نشسته بابتان نازنین اے مسلما ہیں چه آثار مسلمانی ہمیں است دیں چنیں ابتر شما در جیفہ دنیا رہیں جیسا کہ اوپر ذکر آچکا ہے۔حضرت اقدس نے ڈیڑھ سو مسلمان دولتمندوں اور رئیسوں کو براہین احمدیہ کا پہلا حصہ بھیجوا دیا تھا اور متعدد خطوط کے علاوہ ڈاک کے مصارف بھی اپنی گرہ سے ادا کئے تھے اور یہ امید ظاہر کی تھی کہ وہ کتاب کی فقط معمولی قیمت پیشگی بھجوا کر اعانت میں حصہ دار بن جائیں گے۔اور ہزار ہا بندگان خدا اس روحانی چشمہ سے فیض یاب ہو سکیں گے۔لیکن آپ کا یہ خیال صحیح نہ نکلا اور چند عالی ہمت امراء کے سوا کتابوں کا واپس کرنا تو درکنار انہوں نے جواب دینے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی۔اور بالا خر آپ کو غم و اندوہ بھرے دل سے لکھنا پڑا کہ : اگر خدانخواستہ کتابیں بھی واپس نہ ملیں تو سخت دقت پیش آئے گی اور بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا افسوس جو ہم کو معزز بھائیوں سے بجائے اعانت کے تکلیف پہنچ گئی۔اگر یہی حمایت اسلام ہے تو کار دیں تمام ہے۔ہم بکمال غربت عرض کرتے ہیں کہ اگر قیمت پیشگی کتابوں کا بھیجنا منظور نہیں تو کتابوں کو بذریعہ ڈاک واپس بھیج دیں۔ہم اس کو عطیہ عظمیٰ سمجھیں گے۔اور احسان عظیم خیال کریں گے۔ورنہ ہمار ا بڑا خرج ہو گا اور گمشدہ حصہ کو دوبارہ چھپوانا پڑے گا۔کیونکہ یہ پرچہ اخبار نہیں کہ جس کے ضائع ہونے میں کچھ مضائقہ نہ ہو۔ہر ایک حصہ کتاب کا ایک ایسا ضروری ہے کہ جس کے تلف ہونے سے ساری کتاب ناقص رہ جاتی ہے۔برائے خدا ہمارے معزز اخوان سرد مری اور لاپرواہی کو کام میں نہ لائیں۔اور دنیوی استغناء کو دین میں استعمال نہ کریں اور ہماری اس مشکل کو سوچ لیں کہ اگر ہمارے پاس اجزاء کتاب کے ہی نہیں ہوں گے تو ہم خریداروں کو کیا دیں گے اور ان سے پیشگی روپیہ کہ جس پر چھپنا کتاب کا موقوف ہے کیو نکرلیں گے کام ابتر پڑ جائے گا۔اور دین کے امر میں جو سب کا مشترک ہے ناحق کی دقت پیش آجائے گی"۔اس دردمندانہ اپیل پر بھی جب دو سال کا عرصہ بیت چکا تو آپ نے انہیں ایک بار پھر توجہ دلائی۔لیکن اب کے بھی سات آٹھ افراد کے سوار جنہوں نے کچھ تھوڑی بہت توجہ دی) باقی سب غریبوں میں داخل ہو گئے - اور رئیس ہونے کے باوجود پانچ پانچ یا دس دس روپیہ کی قلیل اعانت پر ہی |☑