تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 187 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 187

تاریخ احمدیت جلدا 1^Y براہین احمدیہ کی تصنیف و اشاعت تحقیق حق کا جذبہ رکھنے والے غیر مسلموں کے متعلق حضور کا ارشاد یہ تھا کہ : اگر کوئی ہندوفی الحقیقت طالب حق ہے تو اس سے رعایت کرنا واجب ہے۔بلکہ اگر ایسا شخص ہے استطاعت ہو تو اس کو مفت بلا قیمت دے سکتے ہیں۔غرض اصلی اشاعت دین ہے نہ کہ خرید و فروخت جیسی صورت ہو اس سے اطلاع بخشیں تا کہ بھیجی جاوے"۔یہی نہیں کتاب کی آمد پر کڑی نگرانی رکھنے کی بجائے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے میر صاحب کو یہاں تک کھلی اجازت عنایت فرما دی کہ : " آپ کو کلی اختیار ہے کہ جو کچھ قیمت کتاب میں جمع ہو اس کو حسب ضرورت خرچ کرتے رہیں۔خداوند کریم نے آپ کی سعی میں برکت ڈالی ہے اور آپ وہ کام کر رہے ہیں کہ جس میں ہریک کہ آپ کی طرح توفیق نہیں دی گئی " - 11 ایک موقعہ پر میر صاحب نے براہین احمدیہ کے لئے غرباء سے چندہ جمع کرنے کی تجویز پیش کی تو حضور نے اسے ٹھکرا دیا اور انہیں لکھا کہ : غرباء سے چندہ لینا ایک مکروہ امر ہے۔جب خدا اس کا وقت لائے گا تو پردہ غیب سے کوئی شخص پیدا ہو جائے گا جو دینی محبت اور دلی ارادت سے اس کام کو سر انجام دے گا۔تجویز چندہ کو موقوف رکھیں"۔امراء کی انتہاء درجہ سروصری یہ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دل میں موجزن ایثار قومی لوص نیت اور خدمت دین کے پر جوش جذبات کا عالم تھا۔لیکن امراء نے جنہیں اسلامی مہم کی شاندار تحمیل کے لئے براہین احمدیہ کی اشاعت کے سب ہی اخراجات ادا کرنے کی از خود پیشکش کرنا چاہئے تھی اس نازک موقعہ پر بار بار کی یاد دہانی کے باوجود نہایت درجہ سرد مہری اور افسوسناک فرض ناشناسی کا ثبوت دیا۔اور صرف چند گفتی کے خدا ترس رؤساء میدان میں نکل سکے۔جنہوں نے اس آسمانی دعوت پر لبیک کمی جن میں سر فہرست جناب خلیفہ محمد حسن خان صاحب مرحوم وزیر اعظم و دستور معظم ریاست پٹیالہ تھے ، جن کا حضور نے بھی براہین احمدیہ حصہ اول میں تذکرہ خاص فرمایا۔ان کے علاوہ عہدیدار محمد افضل خان نواب اقبال الدولہ صاحب حیدر آباد ابراہیم علی خاں صاحب نواب صاحب مالیر کوٹلہ، شیخ محمد بہاؤ الدین صاحب مدار المهام جونا گڑھ ، فخرالدولہ نواب مرز ا علاء الدین خان صاحب فرمانر رائے ریاست لوہارو۔سردار عطر سنگھ رئیس اعظم لدھیانہ اور مولوی چراغ علی خاں صاحب معتمد دار المهام دولت آصفیه حیدر آباد دکن اور محمود علی خاں صاحب چھتاری وغیرہ بھی کسی قدر اس کار خیر میں شریک ہوئے۔مگر باقی