تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 176
تاریخ احمدیت۔جلدا 140 براہین احمدیہ کی تصنیف و اشاعت امرانی سے اس کتاب کو لکھ رہے ہیں اور صاف ظاہر ہوتا ہے۔بموجب حدیث نبوی ﷺ کے عن أبِي هُرَيْرَةَ قَالَ فِيْمَا أَعْلَمُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأسِ كُلِ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِينها (رواه ابوداد۔۔۔مصنف صاحب اس چودھویں صدی کے مجدد اور مجتہد اور محدث اور کامل مکمل افراد امت میں سے ہیں۔اس دوسری حدیث نبوی یعنی عَلَمَاء أُمَّتِي كَانَبِيَاء بَنِي إِسْر اتیل اس کی تائید میں ہے۔اس موقعہ پر چند اشعار فارسی اس کتاب کے لکھتا ہوں۔جن کو پڑھ کر ناظرین خود جناب ممدوح کا مرتبہ دریافت فرما لیں گے اور یقین ہے کہ خلوص دل اور صدق عقیدت سے یہ شعر زبان حال سے فرما ئیں گے کہ : سب مریضوں کی ہے تمہیں تم مسیحا نگاه بنو خدا کے لئے۔۔۔۔مسن شریف حضرت کا قریباً چالیس یا پینتالیس ہو گا۔اصلی وطن اجداد کا قدیم ملک فارس معلوم ہوتا ہے۔نہایت خلیق صاحب مروت و حیاء ، جوان رعنا۔چہرہ سے محبت الہی ٹپکتی ہے۔اے ناظرین میں سچی نیت اور کمال جوش صداقت سے التماس کرتا ہوں کہ بے شک و شبہ جناب میرزا صاحب موصوف مجدد رقت اور طالباں سلوک کے لئے کبریت احمر ا د ر سنگ دلوں کے واسطے پارس اور تاریک باطنوں کے واسطے آفتاب اور گمراہوں کے لئے خضر اور منکرین اسلام کے واسطے سیف قاطع اور حاسدوں کے واسطے حجتہ بالغہ ہیں۔یقین جانو کہ پھر ایسا وقت ہاتھ نہ آئے گا۔آگاہ ہو کہ امتحان کا وہ آگیا ہے اور حجت الہی قائم ہو چکی ہے اور آفتاب عالمتاب کی طرح بدلا کل قطعیہ ایسا ہادی کامل بھیج دیا ہے کہ بچوں کو نور بخشے اور ظلمات وضلالت سے نکالے اور جھوٹوں پر حجت قائم کرے"۔براہین احمدیہ کی اشاعت کے بعد اگر آپ کے پاس کوئی مرید ہونے کو آتا تو آپ فرماتے "سورج نکل آیا ہے اب تاروں کی ضرورت نہیں جاؤ حضرت صاحب کی بیعت کرد " حالانکہ ان کی زندگی میں حضرت اقدس نے سلسلہ بیعت کا آغاز نہیں فرمایا۔براہین احمدیہ کے تیسرے تبصرہ نگار مولوی محمد شریف صاحب بنگلوری تھے جو مسلمانان ہند کے نهایت دیندار اور تقوی شعار صحافی اور مشہور مسلم اخبار منشور محمدی بنگلور کے مدیر شہیر تھے۔مولانا محمد شریف صاحب نے " جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا" کے عنوان سے اپنے مبسوط اور پر زور تبصرے میں لکھا: منافقوں اور دشمنوں کے سارے حملے دین اسلام پر ہو رہے ہیں۔ادھر د ہر یہ پن کا زور ادھر لا مذہبی کا شور کہیں برہمو سماج والے اپنے مذہب کو فیلسوفانہ تقریروں سے دین اسلام پر غالب کیا چاہتے