تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 175
تاریخ احمدیت۔جلدا تاثرات سپرد قلم کئے: براہین احمدیہ کی تصنیف و اشاعت " عالی جناب - فیض رسان عالم - معدن جود و کرم - حجتہ الاسلام ، برگزیده خاص دعام حضرت مرزا غلام احمد صاحب دام بر کا تم رئیس اعظم قادیان ضلع گورداسپور پنجاب نے ایک کتاب مسمی براہین احمدیہ سلیس اردو زبان میں جس کی ضخامت قریب تین سو جز کے ہے۔چاروں دفتر جو کہ قریبا ۳۵ جزر ہیں نہایت خوشخط چھپ بھی گئے ہیں اور باقی وقتا فوقتا چھپتے جائیں گے اور خریداروں کے پاس پہنچتے رہیں گے۔یہ کتاب دین اسلام اور نبوت محمدیہ ﷺ اور قرآن شریف کی حقانیت کو تین سو مضبوط دلائل عقلی اور نقلی سے ثابت کرتی ہے اور عیسائی آریہ نیچر یہ ہنود اور برہمو سماج و غیره جمیع مذاہب مخالف اسلام کو از روئے تحقیق رد کرتی ہے۔حضرت مصنف نے دس ہزار روپیہ کا اشتہار دیا ہے کہ اگر کوئی مخالف اسلام یا مکذب اسلام تمام دلائل یا نصف یا شمس تک بھی رد کر دے تو مصنف صاحب اپنی جائیداد دس ہزار روپے کی اس کے نام منتقل کر دیں گے۔چنانچہ یہ اشتہار براہین احمدیہ کے حصہ اول میں درج ہے۔یہ کتاب مشرکین و مخالفین اسلام کی بیخ و بنیاد کو اکھاڑتی ہے اور اہل اسلام کے اعتقادات کو ایسی قوت بخشتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان اور اسلام کیا نعمت عظمی ہے اور قرآن شریف کیا دولت ہے۔اور دین محمدی کیا صداقت ہے اور آیات قرآن مجید کا اس کتاب میں اپنے اپنے موقعوں پر حوالہ دیا گیا ہے۔۲۰ سیپاروں کے قریب ہیں۔منکروں کو معتقد اورست اعتقادوں کو چست اور غافلوں کو آگاہ مومنوں کو عارف کامل بناتی ہے۔اور اعتقادات قویہ اسلامیہ کی جڑ قائم کرتی ہے اور جو وساوس مخالف پھیلاتے ہیں ان کو نیست و نابود کرتی ہے۔اس چودھویں صدی کے زمانہ میں کہ ہر ایک مذہب وملت میں ایک طوفان بے تمیزی برپا ہے۔بقول شخصے کا فرنئے نئے ہیں مسلماں نئے نئے۔ایک ایسی کتاب اور ایک ایسے مجدد کی بے شک ضرورت تھی جیسی کہ کتاب براہین احمدیہ۔اس کے مولف جناب محد و منامولانا میرزا غلام احمد صاحب دام فیوضہ ہیں جو ہر طرح سے دعویٰ اسلام کو مخالفین پر ثابت کرنے کے لئے موجود ہیں جناب موصوف عامی علماء اور فقراء میں سے نہیں بلکہ خاص اس کام پر منجانب اللہ مامور اور ملم اور مخاطب الہی ہیں۔صد ہا بچے الہام اور مخاطبات اور پیشگوئیاں اور رویاء صالحہ اور امرائی اور اشارات اور بشارات اجراء کتاب اور فتح و نصرت اور ہدایات امداد کے باب میں زبان عربی فارسی اردو انگریزی وغیرہ میں ہیں۔حالانکہ مصنف صاحب نے ایک لفظ بھی انگریزی کا نہیں پڑھا۔چنانچہ صدہا مخالفین اسلام کی گواہی سے ثابت کر کے کتاب میں درج کئے گئے ہیں جن سے بخوبی صداقت پائی جاتی ہے اور یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ مصنف صاحب بے شک