تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 174 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 174

تاریخ احمدیت۔جلدا براہین احمدیہ کی تصنیف و اشاعت (چنانچہ ان کے مشاہدہ کرنے والوں کا بیان ہے گو ہم کو ذاتی تجربہ نہیں ہوا) پھر وہ القاء شیطانی کیونکر ہو سکتا ہے۔کیا کسی مسلمان متبع قرآن کے نزدیک شیطان کو بھی یہ قوت قدسی ہے کہ وہ انبیاء و ملائکہ کی طرح خدا کی طرف سے مغیبات پر اطلاع پائے اور اس کی کوئی خبر غیب صدق سے خالی نہ ہو جائے۔ما شاء و کلا"۔تبصرہ کے آخری الفاظ یہ تھے: اس کتاب کی خوبی اور بحق اسلام نفع رسانی اس کتاب کو بچشم انصاف پڑھنے اور ہمارے ریویو کو دیکھنے والوں کی نظروں میں مخفی نہ رہے گی۔لہذا حکم "هَلْ جَزَاء الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانِ " کافه ابل اسلام پر (اہل حدیث ہو خواہ حنفی شیعہ ہوں خواہ سنی وغیرہ) اس کتاب کی نصرت اور اس کی مصارف طبع کی اعانت واجب ہے۔مولف براہین احمدیہ نے مسلمانوں کی عزت رکھ دکھائی ہے اور مخالفین اسلام سے شرطیں لگا لگا کر تحدی کی ہے۔اور یہ منادی اکثر روئے زمین پر کر دی ہے کہ جس شخص کو اسلام کی حقانیت میں شک ہو وہ ہمارے پاس آئے اور اس کی صداقت دلائل عقلیہ قرآنیہ و معجزات نبوت محمدیہ سے (جس سے وہ اپنے الہامات و خوارق مراد رکھتے ہیں) بچشم خود ملاحظہ کرلے"- براہین احمدیہ کے دوسرے تبصرہ نگار لدھیانہ کے مشہور اور باکمال صوفی مرتاض حضرت صوفی احمد جان صاحب اللہ تھے۔جو ر تڑ چھتر ( ضلع گورداسپور میں بارہ چودہ برس تک سلوک کی منازل طے کرنے کے بعد دعوت رشد و ہدایت کی اجازت لے کر لدھیانہ محلہ جدید میں دھونی رمائے بیٹھے تھے۔اور جن کے عقیدت مندوں کا حلقہ دور دور تک بڑی سرعت سے پھیل رہا تھا۔اور ان کے روحانی کمالات اور توجہ کی برکات کی دھوم مچی ہوئی تھی۔ان کی دینی عظمت کا اس سے پتہ چلتا ہے کہ لدھیانہ کے بڑے بڑے علماء مثلاً مولوی محمد صاحب لدھیانوی وغیرہ ان کے خاص ارادتمندوں میں شامل تھے۔اور انہیں " مجمع فیوض سبحانی منبع علوم روحانی قدوة الواصلين زبدة المحققین صوفی باصفا زاہد اتقی فیاض زمان مسیحائے دور ان کے خطابات سے یاد کیا جاتا تھا"۔حضرت صوفی صاحب کو جب پہلی مرتبہ براہین احمدیہ کی زیارت نصیب ہوئی تو وہ اپنی دور بین نگاہ سے حضرت کا مقام بلند اور عالی مرتبہ نور ابھانپ گئے اور ہزار جان سے فریفتہ ہو کر پکار اٹھے۔سب مریضوں کی ہے تمہیں تم مسیحا بنو خدا کے نگاه لئے حضرت صوفی صاحب الله نے اشتہار واجب الاظهار " کے نام سے نہایت والہانہ انداز میں ایک مفصل ریویو شائع کیا جس میں براہین احمدیہ کے متعلق بڑے پر شوکت اور دلاویز الفاظ میں اپنے