تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 136
تاریخ احمدیت جلدا ۱۳۵ قلمی جہاد کا آغاز 4 حیات النبی صفحه ۲۷۳ حواشی منشور محمدی کے ایڈیٹر ایک متدین عالم مولانا محمد شریف صاحب تھے۔اور یہ اخبار مطبع بحر الاسلام بنگلور سے چھپتا تھا۔لائف آف احمد مولفہ مولانا عبد الرحیم صاحب درد ہمیں یہ صفحہ ۶۲ پادری رجب علی کا اخبار ه شو نرائن اگنی ہوتری کا رسالہ - سیرت مسیح موعود حصہ اول صفحه ۶۴ مرتبہ شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی حضرت حافظ معین الدین صاحب جی کے مفصل حالات زندگی ملاحظہ ہوں۔الحکم ۲۱ فروری ۱۹۳۳ء ۲۸ فروری ۱۹۳۴ء ہے۔مارچ ۱۹۳۲ در روایات صحابہ (غیر مطبوعہ ) جلد ۱ صفحه ۹۵٬۹۳ سیرت المہدی حصہ اول صفحه ۱ ۲۱ ملالہ ملاوائل کے بیان ( مرقومہ حیات النبی صفحہ ۱۳۷) سے ثابت ہے کہ وہ پہلی دفعہ مسجد اقصیٰ کی تعمیر کے بعد حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔لہذا مرزا دین محمد صاحب مرحوم کی یادداشت کا یہ حصہ صحیح معلوم نہیں ہو تا یا لخصوص جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کتاب البریہ حاشیہ صفحہ ۱۵۸ میں صاف لکھا ہے کہ مسجد اقصیٰ حضرت والد صاحب قبلہ کی وفات سے چھ ماہ قبل تعمیر ہو چکی تھی اور ان کی وفات سرکاری کاغذات کی رو سے ۱۸۷۶ء میں ہوئی۔حیات احمد جلد اول نمبر ۳ صفحه ۲۰۰٬۱۹۹ ا سیرة المهدی جلد اول صفحہ ۲۲۸ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرقانی نے حیات النبی صفی ہر ان کا تخلص محزون لکھا ہے۔سیرت الحمدی جلد اول صفحه ۲۳۲ ۲۳۳ 10 بحوالہ الحکم ۱۹۳۲ء صفحه م 주 الحکم بما جون ۱۹۰۱ء صفحه ۱۳ بحوالہ تذکره طبع دوم صفحه ۱۸ ۱۷ ، نزول المسیح صفحه ۲۰۷٬۲۰۶ طبع اول مطبع ضیاء الاسلام قادیان اگست 1909ء ا یوحنا باب ۶ آیت ۵۱۴۷۳۵٬۳۲ 19 Creation صفحه ۳۰۴ مولفه رو تھر فورڈ (Rutherford) شائع کردہ انٹر نیشنل بائیل سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن ۲۲۴۰ ٹاور بائیل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی بروکلین نیویارک (امریکہ) ۲۰ حضرت شیخ نور احمد صاحب مختار عام کی روایت کے مطابق اس جگہ سکھوں کا جیل خانہ تھا الحکم ۱۴ جنوری ۱۹۳۶ء صفحہ ۲) حافظ صوفی غلام محمد صاحب مبلغ باریس کا بیان ہے کہ یہاں سکھوں کا دار القضاء تھا۔(روایات صحابہ جلدی صفحه ۲۷۳ غیر مطبوعہ) ۲۱ سیرت المہدی حصہ اول صفحه ۲۳۴ ۲۲ حیات النبی جلد اول صفحہ ۴۲۔۲۳- روایات صحابہ جلدی صفحه ۲۷۳( غیر مطبوعہ) ۲۴۰ سیرت المہدی جلد سوم صفحه ۱۸۴ ۲۵ کتاب البریہ حاشیہ صفحه ۱۵۷ تا ۱۵۹ ۲۷ کتاب البریہ صفحه ۱۶۷ طبع دوم