تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 134
تاریخ احمدیت جلدا قلمی جہاد کا آغاز ” جب وہ زندہ تھے ایک دفعہ مقام خیر دی میں اور دوسری دفعہ امرت سر میں ان سے میری ملاقات ہوئی۔میں نے انہیں کہا کہ آپ علم ہیں ہمارا ایک دعا ہے اس کے لئے آپ دعا کریں۔مگر میں آپ کو نہیں بتلاؤں گا کہ کیا مدعا ہے۔انہوں نے کہا کہ در پوشیدہ داشتن برکت است و من انشاء الله دعا خواهم کرد و الهام امر اختیاری نیست۔اور میرا مدعا یہ تھا کہ دین محمدی علیہ الصلوۃ والسلام روز بروز تنزل میں ہے خدا اس کا مددگار ہو۔بعد اس کے میں قادیان میں چلا آیا۔تھوڑے دنوں کے بعد بذریعہ ڈاک ان کا خط مجھ کو ملا جس میں لکھا تھا کہ ”اس عاجز برائے شما دعا کرده بود القاشد وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الكفِرِينَ - فقیر را کم اتفاق سے اختند که بدیں جلدی القا شود این از اخلاص شما می بینم" یہ تو ابتدائی انکشافات تھے ورنہ اسکے بعد تو آپ نے ایک مخلص ارادتمند (منشی محمد یعقوب صاحب) کو بازن الہی یہاں تک بتا دیا کہ حضرت مرزا صاحب میرے بعد ایک عظیم الشان کام کے لئے مامور کئے جائیں گے۔نیز اپنی وفات سے چند دن قبل (فروری ۱۸۸۱ء میں اللہ تعالٰی سے بذریعہ کشف خبرہا کر یہ پیشگوئی بھی فرمائی کہ " ایک نور آسمان سے قادیان کی طرف نازل ہوامگر افسوس میری اولاد اس سے محروم رہ گئی" ۴۵ م آپ کو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی نسبت بھی الہاما بتایا گیا تھا کہ اس میں کوئی عیب ہے۔بٹالوی صاحب نے وضاحت چاہی مگر انہوں نے یہی جواب دیا کہ اللہ تعالٰی کی حیا مانع ہے۔دراصل آپ کو عالم رویا میں یہ دکھایا گیا تھا کہ بٹالوی صاحب کے کپڑے چاک چاک ہو گئے ہیں ان صریح اور واضح پیشگوئیوں سے جو بعد میں پوری وضاحت و صراحت سے پوری ہو ئیں۔حضرت مولانا رحمتہ اللہ علیہ کی حیرت انگیز قوت کشفی کا اندازہ ہوتا ہے۔مولاناغزنوی کی وفات کے متعلق قبل از وقت خبر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام گورداسپور میں تھے کہ حضور کو قبل از وقت بذریعہ رویا خبر دی گئی کہ ان کا زمانہ وفات قریب ہے چنانچہ وہ ۱۵- ربیع الاول ۱۲۹۸ھ بمطابق ۱۵ فروری ۱۸۸۱ء کو انتقال فرما گئے اور امرت سر میں بیرون دروازہ سلطان دنڈ میں دفن ہوئے E حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کی وفات کے بعد بھی ان سے کشفی عالم میں ملاقات فرمائی تھی۔جس میں انہوں نے حضرت اقدس کو خبردی کہ خدا تعالی آپ سے بڑے بڑے کام لے گا۔آپ روحانی انوار و برکات کے ذریعہ سے مخالفین حق پر عقلی دلائل اور روحانی انوار و برکات دونوں ذریعہ سے اتمام حجت کریں گے۔اس کے بعد انہوں نے فرمایا کہ دنیا میں مجھے امید تھی کہ خدا تعالٰی میرے بعد ضرور ایسا آدمی پیدا کرے گا پھر مولانا غزنوی " حضور کو ایک وسیع مکان کی طرف