تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 133
! تاریخ احمدیت جلدا قلمی جہاد کا آغاز کہ میر صاحب چونکہ اہل حدیث مسلک رکھتے تھے اس لئے رفع یدین- آمین بالجھر ہاتھ باندھنے اور تکبیر پڑھنے کے متعلق تبادلہ خیالات جاری رہتا تھا ا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے حضرت میر صاحب کے ابتدائی تعلقات کا یہ مختصر سا نقشہ ہے۔جس کے بعد ان میں روز روز اضافہ ہوتا گیا۔یہاں تک کہ سات سال بعد وہ بھی دن آگیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شادی ان کے جگر گوشہ حضرت نصرت جہاں بیگم رضی اللہ عنہا سے ہوئی۔وہ نانا جان کہلائے اور ان کی مقدس صاجزادی خدا کی ازلی تقدیروں کے باعث " خدیجہ" کے آسمانی خطاب سے سرفراز ہو کر ام المومنین کے نام سے موسوم ہوئیں۔(اس کی تفصیل آئندہ بیان ہوگی) حضرت مسیح موعود حضرت مولانا عبد اللہ غزنوی اور دوسرے اہل اللہ سے ملاقات عليه الصلوة والسلام کی زندگی کے اس دور کی ایک بھاری خصوصیت یہ تھی کہ آپ ان دنوں بعض اہل اللہ کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے۔سیالکوٹ میں آپ کا ایک بزرگ مولوی محبوب عالم صاحب مرحوم سے خاص تعلق پیدا ہو گیا تھا۔وہاں سے واپسی کے بعد آپ نے ایک خدارسیدہ صوفی حضرت میاں شرف الدین صاحب کی ملاقات کے لئے متعدد بار سم شریف متصل طالب پور ضلع گورداسپور کا سفر اختیار فرمایا۔تاریخ سے آپ کے یہاں بعض لوگوں کا آنا بھی ثابت ہے۔مثلاً ایک صاحب کے شاہ نام ساکن لیل متصل وهاری دال قادیان آتے اور آپ ہی کے پاس قیام کرتے تھے ان کے علاوہ حضرت کو جس باخدا اور صاحب ولایت بزرگ سے آخر وقت تک بے حد الفت رہی وہ مولانا مولوی عبداللہ غزنوی رحمتہ اللہ تھے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ذکر فرمایا ہے کہ ” آپ غایت درجہ کے صالح۔۔۔مردان خدا میں تھے اور مکالمہ اللہ کے شرف سے بھی مشرف تھے اور بمرتبہ کمال اتباع سنت کرنے والے اور تقویٰ اور طہارت کے جمیع مراتب اور مدارج کو ملحوظ اور مرغی رکھنے والے تھے۔اور ان صادقوں اور راستبازوں میں سے تھے جن کو خداتعالی نے اپنی طرف کھینچا ہوا ہوتا ہے اور پرلے درجہ کے معمور الاوقات اور یاد الہی میں محو اور غریق اور اسی راہ میں کھوئے گئے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان سے امرت سر اور اس کے نواحی گاؤں خیروی میں ملاقات فرمائی۔اس سفر میں جو موسم سرما میں اختیار کیا گیا تھا۔حضور کے پاس فنڈر کی مشہور کتاب " میزان الحق" (مطبوعہ ۱۸۶۱ء) تھی جس سے آپ نے آخر شب پانی گرم کرنے کا کام لیا۔آپ فرماتے تھے کہ اس وقت میزان الحق نے خوب کام دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے قلم سے ان ملاقاتوں کا احوال یوں بیان فرماتے ہیں کہ :