تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 122
تاریخ احمدیت۔جلدا ١٢١ قلمی جہاد کا آغاز گھروں میں (مرزا امام دین اور آپ کا مکان مراد تھا) استخارہ کا طریق بتلا دو۔اور اس طریق سے وہ سویا کریں۔اور یہ بھی آپ نے کہا تھا کہ صبح جاکر ان کی خواہیں سنا کرو۔مجھے روٹی بھی بہت دفعہ آپ ساتھ ہیں کھلاتے۔حافظ معین الدین صاحب عرف ماہناں بھی آپ کے پاس آتے۔مجھے آپ ان کی روٹی لانے کے لئے کہتے چنانچہ میں لا دیتا۔آپ کا گھرانا بہت بڑا تھا جو بھی آتا اسے روٹی مل جاتی۔اس عام روٹی سے میں میاں ماہناں کی روٹی لاتا۔حضرت مرزا صاحب اس وقت تک انتظار کرتے اور جب میاں ماہناں کی روٹی آجاتی تو اپنا سالن اس کے سالن میں ملا دیتے۔پھر اسے روٹی دیتے اور کہتے کھائیں۔اور خود آپ بہت آہستہ آہستہ روٹی شروع کرتے۔جب میاں ماہناں اپنی روٹی کھالیتے۔تو آپ دریافت کرتے اور بھی چاہئے۔وہ کہتے اگر ہے تو دے دیں تو بہت دفعہ حضور اپنا کھانا اور میرا بھی ان کو دے دیتے اور وہ سب کھا جاتے ایسے موقعہ پر تیرے پر پھر آپ مجھے پیسے دیتے کہ جاکر کابلی چنے بھنو الاؤ۔اس وقت بہت سستے ہوتے تھے ایک پیسے کے بھی بہت آجاتے تھے۔اور میں اور حضور وہ کھا لیتے۔آپ بہت آہستہ آہستہ کھاتے تھے۔آپ ایک دو دانے ہی منہ میں ڈالتے تھے۔آپ کی عادت تھی کہ باتیں بشاشت سے کرتے اور اکثر رانوں پر ہاتھ مارتے تھے"۔" آپ مسجد میں فرض نماز ادا کرتے۔سنتیں اور نوافل مکان پر ہی ادا کرتے تھے عشاء کی نماز کے بعد آپ سو جاتے تھے اور نصف رات کے بعد آپ جاگ پڑتے اور نفل ادا کرتے۔اس کے بعد قرآن مجید پڑھنا۔مٹی کا دیا آپ جلاتے تھے۔تلاوت فجر کی اذان تک کرتے۔جس کمرہ میں آپ کی رہائش تھی وہ چھوٹا سا تھا اس میں ایک چارپائی اور ایک تخت پوش تھا۔چار پائی تو آپ نے مجھے دی ہوئی تھی اور خود تخت پوش پر سوتے تھے۔فجر کی اذان کے وقت آپ پانی کے ہلکے ہلکے چھینٹوں سے مجھے جگاتے تھے۔ایک دفعہ میں نے دریافت کیا کہ حضور مجھے ویسے ہی کیوں نہیں جگا دیتے۔آپ نے فرمایا حضور رسول کریم کا یہی طریقہ تھا اس سنت پر میں کام کرتا ہوں تاکہ جاگنے میں تکلیف محسوس نہ ہو۔نماز فجر کے بعد آپ واپس آکر کچھ عرصہ سو جاتے تھے کیونکہ رات کا اکثر حصہ عبادت الہی میں گذرتا تھا"۔سلسلہ تعلیم و تدریس زندگی کے اس دور سے جبکہ آپ قادیان میں زاہدانہ زندگی بسر کر رہے تھے اور حضرت والد صاحب کے حکم کی تعمیل میں مقدمات کی پیروی کے لئے جانا پڑتا تھا اپنے چشمہ علم و عرفان سے دوسروں کو بہرہ ور کرنا شروع کر دیا تھا۔چنانچہ صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم نے عربی نصاب کی کتا بیں نحو میر، تاریخ فرشتہ اور شاید گلستان و بوستان بھی آپ سے پڑھیں 2 میاں علی محمد صاحب مرحوم کو گلستان و بوستاں کے کچھ سبق پڑھائے۔مرزا دین محمد صاحب آف لنگر دال کی روایت کے مطابق ۱۸۷۲ ء میں کشن سنگھ - ملاوائل اور شرمیت