تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 123 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 123

تاریخ احمدیت جلدا قلمی جہاد کا آغاز آپ سے حکمت اور قانون وغیرہ کی کتابیں پڑھا کرتے تھے۔بلکہ خود انہیں بھی حضور انور نے ایک فارسی کتاب پڑھانی شروع کی تھی۔بھائی کشن سنگھ صاحب کا بیان بھائی کشن سنگھ صاحب کا بیان ہے کہ : " لوگ حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم سے جرات کر کے کچھ نہ کہہ سکتے تھے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بلا تکلف جو چاہتے کہ لیتے تھے۔میں نے اس لئے ان سے پڑھنا شروع کیا۔مجھے زمانہ طالب علمی میں یہ تجربہ ہوا کہ حضرت مرزا صاحب بھی کبھی ناراض نہیں ہوتے تھے۔ان کی خدمت میں جاتے ہوئے ہم کو ذرا بھی جھجک اور حجاب نہ ہو تا تھا۔ہم بے تکلف جس وقت چاہتے چلے جاتے تھے اور کبھی ایسا اتفاق نہیں ہوا کہ آپ نے اپنی مصروفیت یا آرام کرنے کا عذر کر کے ٹال دیا ہو۔بعض اوقات آپ نے سوتے اٹھ کر دروازہ کھولا ہے مگر برا نہیں منایا کہ تم نے میرے آرام میں آکر خلل پیدا کیا۔چونکہ دروازہ عموماً بند ہو تا تھا کبھی کبھی میں اوپر سے کنکر ہی پھینک دیتا تھا اور آپ اس کی آہٹ سے اٹھ کر دروازہ کھول دیتے۔کبھی ایسا بھی اتفاق ہو تا تھا کہ میں سبق پڑھا کرتا اور آپ کھاتے جاتے اور پڑھاتے بھی جاتے تھے۔اسی حالت میں بعض اوقات میری کتاب میں کوئی غلطی ہوتی تو آپ کھانا چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوتے اور مستند کتاب نکال کر لاتے اور اس غلطی کی اصلاح یا مشکوک امر کو درست فرماتے۔میں ہر چند عرض کرتا کہ آپ تکلیف نہ اٹھا ئیں کھانا کھا لیں بعد میں دیکھا جائے گا۔مگر آپ میری اس درخواست کو منظور نہ فرماتے اور کہہ دیتے کہ تمہارا ہرج ہو گا یہ ٹھیک نہیں۔وہ اپنے آرام کی پروانہ کرتے اور کتاب نکال کر مجھے درست کرا دیتے"۔میں طب اکبر پڑھ رہا تھا اور اس میں مالیخولیا کی بیماری پر بحث میرے سبق میں آئی۔طب اکبر میں اس مرض کی علامات اسباب وغیرہ پر مفصل بحث تھی۔اس میں خلوت نشینی کو بھی ایک حد تک داخل کر دیا ہے۔اس پر آپ نے فرمایا بیبیوں نے کسی کو بھی نہیں چھوڑا۔دیکھو جو لوگ خلوت نشین ہوں ان کو بھی مجنوں کہہ دیتے ہیں"۔میں نے آپ سے یہ سن کر ہنستے ہوئے کہا کہ جیسے آپ کو بھی کہتے ہیں۔آپ ہنس پڑے اور مجھے کسی قسم کا زجر نہ فرمایا۔گو مجھے کہہ دینے کے بعد بہت افسوس ہوا اور شرم محسوس ہوئی کہ میں نے غلطی کی۔لیکن میں نے کوئی عذر کرنا ضروری نہیں سمجھا کیونکہ میں جانتا تھا کہ مرزا صاحب اس قسم کی بات دل میں نہیں رکھتے۔اور کسی سے بدلہ لینا نہیں چاہتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام چونکہ اسلام شعری کلام کی ابتداء اور دیوان کی تسوید کی کی جنگ میں فتح نصیب جرنیل کی حیثیت