تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 121 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 121

تاریخ احمدیت جلدا جہاں جملہ فار مرده قلمی جہاد کا آغاز یک زنده او هست از کردگار و زار ست چنین است ثابت بقول سردش اگر ور اگر راز معنی نیابی خموش گر بر سر آب یا بگذری ہوا ہمچو مرغان پری 3 و گر ز آتش آئی سلامت بروں و گر خاک را زرکنی از فسوں اگر مشکری از حیات رسول سراسر زیان است و کار فضول ۱۸۷۲ء میں آپ کی روز مرہ زندگی کی ایک جھلک اب اگرچہ آپ پلک زندگی میں قدم رکھ چکے تھے۔لیکن آپ کی ان جلوتوں میں بھی خلوتوں کا رنگ چھایا ہوا تھا چنانچہ ان ایام کے متعلق مرزا دین محمد صاحب آف لنگروال کی چشم دید شہادت ہے کہ : قریباً ۱۸۷۲ء کا ذکر ہے میں چھوٹا تھا مرزا نظام الدین صاحب وغیرہ میرے پھو پھی زاد بھائی ہیں۔اس وقت اہل حدیث کا بہت زور تھا۔میرے والد صاحب بھی اہل حدیث تھے۔شیخ رحیم بخش صاحب والد مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی یہاں بہت آیا کرتے تھے میں عام طور پر حضرت مرزا صاحب کے والد صاحب کے گھر بوجہ رشتہ داری آتا جاتا تھا۔میں ان کے پاس عام طور پر رہتا تھا مگر حضرت مرزا صاحب کی گوشہ نشینی کی وجہ سے میں یہی سمجھتا تھا کہ مرزا غلام مرتضی صاحب کا ایک ہی لڑکا غلام قادر ہے۔مگر مسجد میں میں مرزا صاحب کو بھی دیکھتا۔میر نا صر نواب صاحب آیا کرتے تھے۔ایک دن میں نے دیکھا کہ یہ اپنے مکان میں تشریف لے جارہے ہیں۔دوسرے دن میں نے دیکھا کہ آپ نماز پڑھ کر گھر میں تشریف لے جارہے ہیں میں آپ کے والد صاحب کے پاس بیٹھا تھا۔میں بھی جلدی سے اٹھ کر آپ کی طرف گیا۔آپ اپنے کمرہ میں داخل ہو کر دروازہ بند کرنے لگے تھے کہ میں بھی جا پہنچا۔آپ نے دروازہ کھول دیا اور دریافت کیا کہ کیا کام ہے؟ میں نے کہا میں ملنا چاہتا ہوں۔آپ نے مجھے وہاں بٹھایا اور دریافت کیا کہ کہاں سے آئے ہیں؟ میں نے بتایا کہ لنگر وال سے۔اس کے بعد مجھے آپ کی واقفیت ہو گئی۔آپ ایک بالا خانہ پر عبادت میں مصروف رہتے تھے۔اور گھر سے جب روٹی آتی تو اس کی ایک کھڑکی سے بذریعہ چھینکا روٹی اوپر لے لیتے۔اس کے بعد آپ سے مجھے انس ہو گیا اور گھر سے آپ کی روٹی میں لایا کرتا۔میں آپ کے پاس ہی رہتا تھا اور اسی کمرہ میں سوتا تھا۔آپ نے استخارہ بھی سکھایا۔عشاء کی نماز کے بعد دو رکعت پڑھنے کے بعد گفتگو نہیں کرنی ہوتی تھی۔صبح کو جو خواب آتی میں وہ آپ کو بتلا دیتا۔آپ کے پاس فارسی کا ایک تعبیر نامہ بھی تھا آپ اسے دیکھتے تھے۔آپ نے مجھے یہ بھی کہا کہ دونوں