تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 120 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 120

تاریخ احمدیت جلدا 119 قلمی جہاد کا آغاز اقدس کا یہ زبردست چیلنج قبول کرنے کی جرات نہیں ہو سکی۔ضمنا یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ منشور محمدی (بنگلور) کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام اوائل زمانہ میں وکیل ہندوستان سفیر ہند امرت سر - نور افشاں لدھیانہ - برادر ہند لاہور۔- وزیر ہند سیالکوٹ۔ودیا پر کاش امرت سر آفتاب پنجاب لاہور۔ریاض ہند امرت سر اور اشاعہ السنہ منگوایا کرتے تھے۔اور بعض میں مضامین بھی لکھتے تھے۔زمانہ ماموریت کے بعد مختلف زبانوں کے اخبارات قادیان میں آنے شروع ہوئے جو براہ راست غیر زبانوں کے اخبارات آپ کے ہاں پہنچتے آپ جستہ جستہ مقامات سے ان کا ترجمہ سنتے اور اگر ان کے کالموں میں اسلام کی تردید میں کوئی مضامین آتے تو اس کا جواب لکھوا کر شائع فرماتے۔اور جو خود مطالعہ فرما سکتے وہ ضرور پڑھتے۔اخبارات کا گہری نظر سے مطالعہ کرنا آپ کا معمول تھا۔آخری زمانہ میں آپ لاہور کے روزنامہ " اخبار عام " کو بڑے شوق سے خریدتے اور خاص دلچسپی سے پڑھتے اور اس کی بے لاگ اور معتدل پالیسی کو پسند فرماتے -¿ مولوی اللہ دتہ صاحب لودھی ننگل قادیان کے پاس لودھی نگل میں ایک مولوی سے مسئلہ حیات النبی وغیرہ پر مذاکرہ صاحب اللہ دتہ نامی رہا کرتے تھے جنہیں ان دنوں حضرت اقدس نے اپنے صاحبزادوں کی " تعلیم کے لئے بلوایا تھا۔مولوی صاحب ( بعض اپنے مذہبی عقائد یا دیگر نا معلوم وجوہ کی بناء پر ) قادیان میں مختصر قیام کے بعد واپس اپنے گاؤں چلے گئے۔جب تک وہ قادیان میں رہے انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام سے مسئلہ حیات النبی " اور دوسرے مسائل پر مذاکرہ جاری رکھا اور واپسی کے بعد انہی مسائل کے متعلق ایک منظوم فارسی خط لکھا۔جس کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی۔ستمبر ۱۸۷۲ء کو ایک پر کیف اور مبسوط فارسی نظم انہیں بھجوائی۔اس نظم سے یہ حقیقت بالکل نمایاں ہو کر سامنے آجاتی ہے کہ آپ کو ابتداء ہی سے حضرت رسول اکرم ا سے نہایت والہانہ عقیدت تھی اور آپ آنحضرت ﷺ کو دل و جان سے ابدی حیات کے تخت پر رونق افروز ہونے والا زندہ نہی یقین کرتے۔حضور کے چشمہ فیوض و برکات کو اپنے دل میں رواں رواں پاتے۔اور حضور ﷺ کی عظمتوں اور برکتوں کی منادی کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے۔پوری نظم حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے اپنی کتاب حیات احمد جلد اول نمبر ۳ صفحه ۲۰۹٬۲۰۵ پر شائع کی ہے اور قابل دید ہے۔صرف چند اشعار بطور نمونہ درج ذیل کرتا ہوں سے سپاس آن خداوند یکتائے را پھر و عالم آرائے را