تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 86 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 86

تاریخ احمدیت جلدا ۸۵ قیام سیالکوٹ اور تبلیغ اسلام آپ کا اکثر معمول تھا کہ آپ گھر سے باہر اپنے اوپر چادر لپیٹے رکھتے اور تلاوت قرآن مجید صرف اتنا حصہ چرہ کا کھلا ر کھتے جس سے راستہ نظر آئے۔جب کچھری سے فارغ ہو کر واپس اپنی قیام گاہ پر تشریف لاتے تو دروازہ بند کر لیتے اور قرآن شریف کی تلاوت اور ذکر الہی میں مصروف ہو جاتے۔آپ کے اس طریق مبارک سے بعض متجسس طبیعتوں کو خیال پیدا ہوا کہ یہ ٹوہ لگانا چاہئے کہ آپ کو اڑ بند کر کے کیا کرتے ہیں۔چنانچہ ایک دن " سراغ رسان "گروہ نے آپ کی خفیہ سازش کو بھانپ لیا یعنی " انہوں نے بچشم خود دیکھا کہ آپ مصلیٰ پر رونق افروز ہیں قرآن مجید ہاتھ میں ہے اور نہایت عاجزی اور رقت اور الحاج وزاری اور کرب وبلا سے دست بدعا ہیں کہ "یا اللہ تیرا کلام ہے مجھے تو تو ہی سمجھائے گا تو میں سمجھ سکتا ہوں"۔مائی حیات بی بی صاحبہ بنت فضل دین صاحب مرحوم کی روایت ہے کہ "آپ کی عادت تھی کہ جب کچھری سے واپس آتے تو پہلے میرے باپ کو بلاتے اور ان کو ساتھ لے کر مکان میں جاتے۔مرزا صاحب کا زیادہ تر ہمارے والد صاحب کے ساتھ ہی اٹھنا بیٹھنا تھا۔ان کا کھانا بھی ہمارے ہاں ہی پکتا تھا۔میرے والد ہی مرزا صاحب کو کھانا پہنچایا کرتے تھے۔مرزا صاحب اندر جاتے اور دروازہ بند کر لیتے اور اندر صحن میں جاکر قرآن پڑھتے رہتے۔میرے والد صاحب بتلایا کرتے تھے کہ مرزا صاحب قرآن مجید پڑھتے پڑھتے بعض وقت سجدہ میں گر جاتے ہیں اور لمبے لمبے سجدے کرتے ہیں اور یہاں تک روتے کہ زمین تر ہو جاتی ہے "۔اسی طرح میاں بوٹا صاحب کشمیری کی شہادت ہے کہ جب حضرت مرزا صاحب ہمارے مکان میں رہتے تھے تو مکان کے صحن میں ملتے رہتے۔اور قرآن شریف پڑھتے رہتے تھے"۔خدمت خلق سیالکوٹ میں قیام کے دوران میں آپ نے خدمت خلق کے پہلو کی طرف بھی خاص توجہ مبذول رکھی۔آپ قادیان کی طرح یہاں بھی غرباء پروری کا خاص اہتمام فرماتے۔جو تنخواہ لاتے اس میں سے معمولی سبارہ کھانے کا خرچ رکھ کر باقی رقم سے محلہ کی بیواؤں اور محتاجوں کو کپڑے بنوا دیتے یا نقدی کی صورت میں تقسیم فرما دیتے۔علم طب میں آپ کو کافی درک تھا اور آپ اس سے مخلوق خدا کو فائدہ پہنچانے سے کبھی دریغ نہیں فرماتے تھے۔آپ علاج کے ساتھ مریض کے لئے دعا بھی فرماتے اور شافی مطلق آپ کے دست مبارک سے شفا کا سامان بھی پیدا کر دیتا۔یہی طب روحانی تھی۔جس پر آپ اپنی پوری عمر کار بند رہے۔میاں بوٹا کشمیری (جن کے گھر میں بھی حضور عرصہ تک قیام فرمار ہے) شہادت دیتے ہیں کہ " میں تو ان کو ولی اللہ جانتا ہوں ایک دفعہ میرے والد صاحب بیمار ہو گئے تمام ڈاکٹر اور حکیم جو اب دے چکے کہ اب یہ نہیں بچے گا اور علاج کرنا فضول ہے لیکن ہم نے حضرت مرزا صاحب کو بلایا آپ نے دعا فرمائی اور کچھ علاج بھی بتایا۔اللہ تعالٰی