تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 85
تاریخ احمدیت جلدا ۸۴ قیام سیالکوٹ اور تبلیغ اسلام ذلیل چیتھڑے کی بھلا حیثیت ہی کیا ہو سکتی تھی ؟ حضور لالہ صاحب کا مشورہ سنا ان سنا کر دیتے۔اپنے فرائض منصبی میں کو تاہی آپ کی فطرت و طینت کے خلاف تھی مگر خدائے واحد کے مقابل کسی انسان کو معیشت کا سرچشمہ قرار دینا بھی آپ کو کب گوارا ہو سکتا تھا چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام جب تک سیالکوٹ میں رہے سج رام کے تیر اور نشتر تائید اسلام کے "جرم" کی پاداش میں برداشت کرتے رہے۔مگر جب مستعفی ہو کر واپس قادیان آئے تو وہی پنڈت سیج رام سیالکوٹ سے بدل کر امرت سر کی کمشنری میں سررشتہ دار بنا اور خدا تعالی کے قمری تیروں کا شکار ہو گیا اللہ تعالی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو قبل از وقت اس کی ناگہانی موت کی خبر بذریعہ کشف دے دی جس نے سننے والوں کو انگشت بدنداں کر دیا۔حضرت اقدس حقیقتہ الوحی میں خداتعالی کے اس خاص نشان کے متعلق فرماتے ہیں: ایک شخص سمج رام نام امرت سر کی کمشنری میں سررشتہ دار تھا اور پہلے وہ سیالکوٹ میں صاحب ڈپٹی کمشنر کا سر رشتہ دار تھا اور وہ مجھ سے ہمیشہ مذہبی بحث رکھا کرتا تھا۔اور دین اسلام سے فطرتا ایک کینہ رکھا کرتا تھا۔اور ایسا اتفاق ہوا کہ میرے ایک بڑے بھائی تھے انہوں نے تحصیلداری کا امتحان دیا تھا اور امتحان میں پاس ہو گئے تھے اور وہ ابھی گھر میں قادیان میں تھے اور نوکری کے امیدوار تھے۔ایک دن میں اپنے چوبارہ میں عصر کے وقت قرآن شریف پڑھ رہا تھا جب میں نے قرآن شریف کا دوسرا صفحہ الٹانا چاہا تو اسی حالت میں میری آنکھ کشفی رنگ پکڑ گئی اور میں نے دیکھا کہ سبح رام سیاہ کپڑے پہنے ہوئے اور عاجزی کرنے والوں کی طرح دانت نکالے ہوئے میرے سامنے آکھڑا ہوا۔جیسا کہ کوئی کہتا ہے کہ میرے پر رحم کرا دو۔میں نے اس کو کہا کہ اب رحم کا وقت نہیں اور ساتھ ہی خدا تعالٰی نے میرے دل میں ڈالا کہ اسی وقت یہ شخص فوت ہو گیا ہے اور کچھ خبر نہ تھی۔بعد اس کے میں نیچے اثرا۔اور میرے بھائی کے پاس چھ سات آدمی بیٹھے ہوئے تھے اور ان کی نوکری کے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔میں نے کہا اگر پنڈت سبح رام فوت ہو جائے تو وہ عہدہ بھی عمدہ ہے ان سب نے میری بات سن کر قہقہہ مار کر ہنسی کی کہ " کیا چنگے بھلے کو مارتے ہو " دوسرے دن یا تیسرے دن خبر آگئی کہ اسی گھڑی سبج رام ناگہانی موت سے اس دنیا سے گذر گیا۔دفتری اوقات کے بعد آپ کے مشاغل اور معمول دفتری فرائض کی سر انجام رہی تو دفتری اوقات میں ہوتی تھی۔باقی پور اوقت آپ کا تلاوت قرآن مجید ، عبادت گذاری شب بیداری خدمت خلق اور تبلیغ اسلام ایسے اہم دینی مہمات میں گذر تا تھا۔