لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 83
83 جدامجد میاں الہی بخش صاحب کی زندگی امیرا نہ ٹھاٹھ میں گذری تھی۔ایک دن وہ حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ مولوی صاحب! میں اپنے گنا ہوں سے تو بہ کرنا چاہتا ہوں۔آپ فرمائیں کہ اس کی کیا صورت ہو سکتی ہے؟ حضرت مولوی صاحب نے فرمایا۔آپ کسی کامل رہنما کی بیعت کریں انہوں نے عرض کی کہ آپ سے بہتر اور کون رہنما ہو گا۔آپ میری بیعت لے لیں۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب نے بیعت لے لی۔پھر مولوی صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی کا پتہ چلا تو آپ پا پیادہ قادیان پہنچے اور جا کر آنحضرت ﷺ کا سلام پہنچایا۔نوٹ : بعض زبانی روایات کی بنا پر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے لودھیا نہ جا کر بیعت کی تھی۔والله اعلم بالصواب۔( عبدالقادر ) حضرت مفتی محمد صادق صاحب ولادت : ۱۸۷۲ء بیعت : ۳۱- جنوری ۱۸۹۱ء وفات : ۱۳۔فروری ۱۹۵۷ء عمر : ۸۵ سال حضرت مفتی محمد صادق صاحب حضرت خلیفہ امسیح الاول رضی اللہ عنہ کے عزیزوں میں سے تھے۔حضرت مولوی صاحب ہی کے ذریعہ آپ بالکل ابتدائی زمانہ میں حضرت اقدس کے غلاموں میں شامل ہوئے۔آپ کچھ عرصہ جموں میں حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب کے پاس رہے۔پھر لاہور میں اسلامیہ ہائی سکول شیرانوالہ گیٹ میں مدرس کے طور پر ملازمت کی۔حضرت ڈپٹی محمد شریف صاحب ریٹائر ڈائی۔اے سی کا بیان ہے۔کہ ۱۸۹۴ء میں جب میں چھٹی جماعت میں پڑھتا تھا حضرت مفتی صاحب میرے ریاضی کے استاد تھے۔اور حضرت مولوی رحیم اللہ صاحب والی مسجد کے ملحق پیپل والی گلی میں ایک کرایہ کے مکان میں رہتے تھے۔بعد میں آپ اکو نٹنٹ جنرل کے دفتر میں ملا زم ہو گئے۔پھر وہیں سے ہجرت کر کے جولائی ۱۹۰۰ء میں مستقل طور پر قادیان تشریف لے گئے۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عاشق صادق تھے۔ملازمت کے دوران قریباً ہر اتوار قادیان میں گذارا کرتے تھے اور حضرت اقدس کو انگریزی اخبارات اور کتب کا ترجمہ سنایا کرتے تھے۔انگریزی زبان میں خط و کتابت بھی آپ ہی کے ذریعہ ہوا کرتی تھی۔انگریزوں کو تبلیغ کرنے کا بہت شوق تھا۔قادیان میں ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر بھی رہے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ ایک مرتبہ میں نے