لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 82 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 82

82 حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب بیعت لینے کا اعلان فرمایا تو حضور کے ساتھ عقیدت رکھنے کی وجہ سے بیعت پر آمادہ ہو گئے مگر بیعت کرنے سے قبل پرانے وفات یافتہ بزرگوں کے مزاروں پر جا کر کشف القبور کے ذریعہ حضرت اقدس کی صداقت دریافت کی۔ان کی تصدیق پر فوراً قادیان جا کر بیعت کر لی۔جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے۔ہمارے خاندان کے چھوٹے بڑے تمام افراد چونکہ ان کے شاگرد تھے اس لئے ان کی تبلیغ سے متاثر ہو کر یکے بعد دیگرے سب نے بیعت کر لی۔آپ بہت نیک اور متقی بزرگ تھے۔آپ کے درس میں شامل ہونے کے لئے حضرت مرزا ایوب بیگ ( جو ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کے بھائی تھے اور چیفس کالج لاہور میں پروفیسر تھے۔بڑے لمبے قد کے، گورا رنگ، خوبصورت داڑھی۔) بھی چیفس کالج سے پیدل تشریف لایا کرتے تھے۔ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب بھی آپ کے بہت معتقد تھے اور نمازوں اور درس میں شامل ہوا کرتے تھے۔ان کی مسجد میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کوبھی میں نے نمازیں پڑھتے دیکھا ہے۔جب حضور ۱۸۹۲ء میں محبوب رایوں کے مکان میں اترے تھے اور حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب بھی جموں سے تشریف لائے ہوئے تھے تو ان ایام میں حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب نماز پڑھایا کرتے تھے اور حضرت اقدس حضرت مولوی رحیم اللہ صاحب اور دیگر احباب مقتدی ہوا کرتے تھے۔آپ کی وفات جہاں تک مجھے یاد ہے ۱۸۹۳ ء یا ۱۸۹۴ء میں ہوئی۔اس وقت ان کی عمر انداز ہے سال کی تھی۔خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ آئینہ کمالات اسلام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء میں شامل ہونے والوں کی فہرست میں حضرت مولوی رحیم اللہ صاحب کا نام بھی درج فرمایا ہے۔اور ساتھ ” لنگے منڈی لاہور“ لکھا ہے۔لیکن انجام آتھم کے ضمیمہ میں جو۳۱۳ اصحاب کی فہرست درج ہے۔اس میں آپ کے نام کے ساتھ حضور نے مرحوم لکھا ہے۔اس سے بھی ظاہر ہے کہ انجام آتھم کی تصنیف سے قبل آپ وفات پاچکے تھے۔۳۱۳ اصحاب کی فہرست میں آپ کا نام۱۳۲ نمبر پر ہے۔حضرت ڈپٹی میاں محمد شریف صاحب کا بیان ہے کہ حضرت مولوی رحیم اللہ صاحب کی وفات کے بعد ہم لوگ حضرت مولوی غلام حسین صاحب کی اقتدا میں گئی بازار والی مسجد میں جمعہ پڑھا کرتے تھے۔حضرت میاں عبدالرشید صاحب ابن حضرت میاں چراغ دین صاحب نے بیان کیا کہ ہمارے وو