لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 84
84 حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بی۔اے کا امتحان پاس کرنے کی اجازت چاہی تا ڈگری ہاتھ آ جائے۔حضور نے فرمایا۔مفتی صاحب! آپ کو ڈگری حاصل کرنے کی ضرورت نہیں۔خدا آپ کو بہت ڈگریاں دے گا۔حضرت اقدس کی یہ پیشگوئی اس طرح پوری ہوئی کہ جب آپ کو حضرت خلیفۃ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے تبلیغ کے لئے امریکہ بھیجا تو وہاں مختلف یونیورسٹیوں میں لیکچر دینے کے نتیجے میں آپ کو اس قدر ڈگریاں ملیں کہ جن سے کئی لائینیں بھر جاتی ہیں۔ڈی۔ڈی Doctor) (of Divinity کی ڈگری خاص طور پر قابل ذکر ہے جو حضرت مفتی صاحب سے پہلے کسی غیر وو عیسائی کو نہیں دی گئی تھی۔۲۱ مارچ ۱۹۰۵ء کو جب اخبار البدر کے مالک و مدیر با بومحمد افضل صاحب وفات پا گئے۔تو ان کا اخبار حضرت میاں معراج الدین صاحب عمرؓ نے خرید لیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مفتی صاحب کو ” البدر کا ایڈیٹر مقرر فرمایا اور ۳۰۔مارچ ۱۹۰۵ء کو ایک خاص اعلان کے ذریعہ جماعت کو اطلاع دی کہ میں بڑی خوشی سے یہ چند سطریں تحریر کرتا ہوں کہ اگر چہ منشی محمد افضل صاحب مرحوم ایڈیٹر اخبار البدر‘ قضائے الہی سے فوت ہو گئے ہیں مگر خدا تعالیٰ کے شکر اور فضل سے ان کا نعم البدل اخبار کو ہاتھ آگیا ہے۔یعنی ہمارے سلسلہ کے ایک برگزیدہ رکن جوان صالح اور ہر ایک طور سے لائق جن کی خوبیوں کو بیان کرنے کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔یعنی مفتی محمد صادق صاحب بھیروی قائم مقام منشی محمد افضل مرحوم ہو گئے ہیں۔میری دانست میں خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم سے اس اخبار کی قسمت جاگ اٹھی ہے کہ اس کو ایک ایسا لائق اور صالح ایڈیٹر ہاتھ آیا۔خدا تعالیٰ یہ کام ان کے لئے مبارک کرے۔اور ان کے کاروبار میں برکت ڈالے۔آمین ثم آمین لے دو پر چوں کے بعد اس اخبار کا نام ” البدر“ کی بجائے "بدر" رکھا گیا اور حضرت اقدس کی توقع کے مطابق حضور کی زندگی میں حضرت مفتی صاحب نے اس کام کو خوب نباہا۔حضرت اقدس کی وحی اور ملفوظات لکھنے کا کام جس طرح حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ایڈیٹر الحکام نے کیا بالکل اسی طرح حضرت مفتی صاحب کرتے رہے۔اس عظیم الشان کام کی وجہ سے آپ کا نام انشاء اللہ قیامت تک زندہ