لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 599
599 ادا کرے۔پھر عدالت اپیل اول اور ہائی کورٹ میں بھی بائیس بائیس روپے ادا کرے۔گویا ایک معمولی سے مقدمہ کے لئے بھی چھیاسٹھ روپے ادا کرنے پڑتے تھے۔اس قانون کی اطلاع جب محترم شیخ محمد احمد صاحب مظہر نے حضرت امیر المومنین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچائی تو حضور نے اس قانون کو منسوخ کرانے کے لئے محترم چوہدری اسد اللہ خاں صاحب کو دومرتبہ جموں بھجوایا۔نتیجہ یہ ہوا۔کہ چیف جسٹس کی سفارش پر اپریل ۱۹۳۲ء میں مہاراجہ کشمیر نے بیرونی وکلاء پر عائد شدہ پابندیاں دور کر دیں۔اس عظیم الشان خدمت کے علاوہ آپ نے جموں اور میر پور میں بھی بہت سی قانونی خدمات سرانجام دیں۔میر پور کے مقدمہ میں محترم میر محمد بخش صاحب ایڈووکیٹ کی پیروی سے اللہ تعالیٰ نے بہت سے مسلمان مجرموں کو بری کر وایا اور جن چھ مجرموں کو سزا ہوئی جناب چوہدری صاحب موصوف کی پیروی سے پانچ کو بری قرار دیا گیا اور ایک کی سزا میں تخفیف کر دی گئی۔ریاستی حکام نے آپ کو بھی چوبیس گھنٹے کے اندر اندر ریاست چھوڑ دینے کا حکم دیا تھا۔مگر آپ نے جواب دیا کہ میں نے کوئی غیر قانونی اقدام نہیں کیا۔اس لئے اگر ریاست کے حکام مجھے نکالنا چاہتے ہیں تو مجھے زبر دستی اٹھا کر ریاست سے باہر چھوڑ آئیں یا پھر مجھ پر مقدمہ چلایا جائے۔چنانچہ ریاست کو نوٹس واپس لینے پر مجبور ہونا پڑا۔" اب میں اس سلسلہ میں ایک آخری بات لکھ کر اس حصہ مضمون کو ختم کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اور حضرت مصلح موعودؓ کی نگاہ میں آپ کا کیا مقام ہے؟ حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کے بارہ میں پہلے حضرت مصلح موعودؓ کا ایک رویا درج کیا جا چکا ہے۔ضروری معلوم ہوتا ہے کہ وہی رؤیا جو دوسری مرتبہ حضور نے بیان کی۔اس کا یہاں اندراج کیا جائے۔حضور نے کراچی میں ایک خطبہ جمعہ کے دوران میں بیان فرمایا : یہاں کی جماعت اپنی جد و جہد اور قربانی کے لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔کچھ اس میں اس بات کا بھی دخل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے بعض خاندانوں کو دین کی خدمت کا موقعہ عطا فرما دیتا ہے اور ان کی وجہ سے جماعت ترقی کر جاتی ہے۔سترہ اٹھارہ سال کی بات ہے۔میں نے رویا میں دیکھا کہ میں اپنے دفتر میں بیٹھا ہوں اور میرے سامنے چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب لیٹے ہوئے ہیں اور گیارہ بارہ سال کی عمر کے معلوم ہوتے