لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 598 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 598

598 کی ہے اور نہ میری شکایت پر کان دھرا ہے۔جو نہی اس نے یہ بات کہی۔چوہدری صاحب کو جوش آ گیا اور آر پ نے اسے سخت ناراضگی کے لہجہ میں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا۔دیکھو وہ امیر ہیں اور دوصد افراد کے قافلہ پر ان کی نگاہ ہے۔میرا اور آپ کا کام صرف توجہ دلانا ہے۔اگر وہ ہماری بات پر توجہ کرنا ضروری نہیں سمجھتے تو ہمیں شکایت کا کوئی حق نہیں۔ہمارا فرض صرف توجہ دلانا تھا جو ہم نے دلا دی۔میں چوہدری صاحب کی یہ بات سن رہا تھا جس کا اب تک مجھ پر اثر ہے۔حقیقت میں ایسے ہی لوگ ہیں جن کی وجہ سے جماعت کا نظام مستحکم رہ سکتا ہے۔ایک مرتبہ خاکسار مؤلف کو ایک جماعت میں جانے کا اتفاق ہوا۔وہاں امارت بدل چکی تھی۔اور سابق امیر اور اس کے ایک دو ساتھی نئے امیر کی پوری طرح اطاعت نہیں کرتے تھے۔گویا وہ سمجھتے تھے کہ امارت ہمارا پیدائشی حق ہے جو کسی اور کو دے دیا گیا ہے۔محترم چوہدری صاحب بھی وہاں تشریف فرما تھے۔آپ نے سابق امیر اور اسکے ساتھیوں کو کہا کہ دیکھو ایک لمبا عرصہ آپ نے یہاں امارت کی ہے اب خدا تعالیٰ تمہیں ماتحت رکھ کر آزمانا چاہتا ہے کہ تم اپنے امیر کی کیسے اطاعت کرتے ہو؟ اس قسم کے متعدد واقعات ہیں جو اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ آپ جس طرح یہ پسند کرتے ہیں کہ آپ کے زمانہ میں لوگ آپ کی اطاعت کریں اسی طرح بلکہ اس سے بڑھ کر آپ کا عمل اس پر شاہد ہے کہ اگر آپ پر کوئی اور امیر مقرر کیا جائے تو آپ اس کی اطاعت میں خوشی اور انبساط محسوس کرتے ہیں۔آپ کا ایک عظیم الشان کارنامہ مسجد دارالذکر جیسی عظیم الشان مسجد کی تعمیر ہے۔حقیت پسند پارٹی کے فتنہ کو کچل کر رکھ دینا بھی آپ کا ایک کارنامہ ہے۔جناب چوہدری صاحب کا کام کشمیر کمیٹی کے ماتحت حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کو جب ہندوستان کے مسلمان لیڈروں نے کشمیر کمیٹی کا صدر چن لیا تو ان کشمیری مظلومین کے مقدمات کی پیروی کرنے کے لئے جن پر ریاست کی طرف سے مقدمات چل رہے تھے حضور نے احمدی وکلاء کو کشمیر جانے کی ہدایت فرمائی۔چنانچہ ان وکلاء میں ایک جناب چوہدری صاحب بھی تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ سے پہلا کام یہ کروایا کہ ریاستی قانون کے مطابق یہ ضروری تھا کہ اگر کوئی وکیل باہر سے ریاست میں جا کر کسی مقدمہ کی پیروی کرے تو اس کے لئے لازمی تھا کہ وہ پہلے ماتحت عدالت میں دو روپیہ کے کاغذ پر درخواست دے اور بیس روپیہ فیس