لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 597 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 597

597 کرنے کا موقعہ ملا ہے۔آپ نے اس کی کامل اطاعت کی ہے۔چند سال کی بات ہے آپ کی کوٹھی واقعہ ۳۲ - ایلگن روڈ لاہور چھاؤنی میں کارکنان لاہور کی ایک میٹنگ تھی اس میں آپ نے ایک واقعہ بیان فرمایا جس کا مجھ پر اب تک گہرا اثر ہے۔آپ نے بیان فرمایا کہ ایک مرتبہ جبکہ قاضی محمد اسلم صاحب ایم۔اے جماعت لاہور کے امیر تھے۔میں کار کے لئے پٹرول لینے پٹرول پمپ پر جا رہا تھا کہ رستہ میں مجھے جماعت کا ایک کارکن ملا جس نے ہاتھ کے اشارہ سے مجھے روکا۔میں نے کار کھڑی کر لی اور اسے کہا فرمائیے کیا ارشاد ہے؟ اس نے مجھے جماعت کے بعض افراد کی ایک لسٹ دکھائی جس میں میرا نام بھی تھا۔ابتداء میں محترم امیر صاحب کا یہ ارشاد درج تھا۔کہ کسی ضروری کام کے لئے تین صد روپیہ کی ضرورت ہے۔ذیل کے احباب دس دس روپے حامل رقعہ ہذا کو دے دیں۔آپ فرماتے ہیں کہ اس وقت میری جیب میں صرف دس روپے کا ایک نوٹ تھا وہ میں نے فوراً نکال کر پیش کر دیا۔اب حیران تھا کہ پٹرول کے لئے تو پیسے رہے نہیں، کیا بنے گا؟ ابھی پٹرول پمپ پر پہنچا ہی تھا کہ ایک شخص نے مجھے تین سو روپے دے کر کہا کہ آپ کی فیس میں سے یہ روپیہ باقی تھا۔آپ لے لیں۔میں نے روپیہ لے لیا۔اس کا نام نوٹ کیا اور واپس دفتر پہنچا۔اس زمانے میں بڑے بھائی محترم چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب بھی پریکٹس کیا کرتے تھے۔میں نے اپنے منشی سے دریافت کیا کہ اس نام کے کسی شخص کے ذمہ میری یا بڑے بھائی کی فیس کا کوئی روپیہ باقی ہے؟ اس نے رجسٹر دیکھ کر کہا کہ اس نام کا تو کوئی شخص کبھی کوئی مقدمہ ہمارے پاس لے کر آیا ہی نہیں۔اس پر میں نے سمجھا کہ یہ رو پیران دس روپوں کے بدلہ میں ایک انعام ہے جو جناب الہی کی طرف سے عطا ہوا ہے۔محترم قریشی محمود احمد صاحب ایڈووکیٹ نے بیان کیا کہ محترم چوہدری صاحب کی بیماری کے بعد ایک مرتبہ قافلہ قادیان کا امیر میں تھا۔محترم چوہدری صاحب بھی اس قافلہ میں شامل تھے۔جب ہم پاکستان کی سرحد عبور کر کے ہندوستان کی سرحد پر پہنچے تو ایک شخص نے ایک دکان سے چائے پی۔محترم چوہدری صاحب نے مجھے توجہ دلائی کی امیر صاحب! دیکھئے اس شخص نے نظام کی خلاف ورزی کی ہے اس سے باز پرس کیجئے۔میں خاموش رہا۔اتنے میں ایک اور شخص نے بھی ایسا ہی کیا۔اس پر کسی دوسرے شخص نے مجھے توجہ دلائی مگر میں پھر بھی خاموش رہا۔میری اس خاموشی کو دیکھ کر اس دوسرے شخص نے محترم چوہدری صاحب کو کہا کہ دیکھئے چوہدری صاحب امیر صاحب نے نہ آپ کی شکایت کی پروا