لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 574 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 574

574 محترم پر ایک مختصر سا نوٹ درج کیا جائے۔شیخ صاحب متوسط قد کے مضبوط جسم رکھنے والے بزرگ ہیں۔زندہ دلی ان کا شیوہ ہے۔تکالیف و مصائب کو صبر اور استقلال کے ساتھ برداشت کرتے ہیں اور ہر حالت عسر و یسر میں اپنے خالق و مالک کے حضور جھکے رہتے ہیں۔۱۹ برس کا لمبا زمانہ جماعت لاہور کے امیر رہے اور سلسلہ کی قانونی خدمات بغیر معاوضہ کے بجالاتے رہے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ تحقیقاتی عدالت میں ان کے کام کا معاوضہ پچپن ہزار روپیہ بنتا تھا۔مگر آپ نے ایک پیسہ بھی وصول نہیں کیا۔اب بھی جماعتی مقدمات میں بغیر فیس کے عدالت عالیہ میں پیش ہوتے ہیں۔حضرت امیرالمومنین خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ آپ کے زمانہ امارت میں جب بھی لاہور میں تشریف لاتے رہے عموماً آپ ہی کے مکان پر قیام فرماتے رہے۔خصوصاً حضرت اُمّم طاہر رضی اللہ عنہا کی طویل بیماری کے ایام میں تو کئی ماہ حضور کا آپ کے ہاں قیام رہا اور آپ کو اور آپ کے اہل بیت کو حضور کی خدمت کا خاص موقعہ ملا۔یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ آپ کو حضور رضی اللہ عنہ کا ہم زلف ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔جناب چوہدری اسد اللہ خان صاحب کا زمانہ امارت مئی ۱۹۵۴ء سے امارت لاہور کا عہدہ بذریعہ انتخاب محترم جناب چوہدری محمد اسد اللہ خاں صاحب بارایٹ لاء کے سپرد کر دیا گیا۔لیکن دفتر مرکز یہ جماعت احمد یہ لاہور جسے محترم شیخ بشیر احمد صاحب نے انتظامات کی سہولت کے لئے اپنی کوٹھی کے ایک کمرہ میں کھولا تھا بدستور وہیں رہا اور اب تک جو ۷ امئی ۱۹۶۶ ء ہے وہیں ہے اور دفتر کے انچارج محترم جناب با بو عبدالحمید صاحب شملوی برادر حضرت مولوی فرزند علی خان صاحب بھی شروع سے اس وقت تک برابر کام کر رہے ہیں۔حضرت امیر المومنین کی لاہور میں تشریف آواری ستمبر ۹ بجے صبح حضور رضی اللہ عنہ لاہور میں تشریف لائے ۳۷ اور چار روز قیام فرما کر ۱۶ ستمبر کو واپس ربوہ تشریف لے گئے۔۱۳۸)