لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 573
573 ضمن میں لکھا ہے : ” ہمارا احساس یہ بھی ہے کہ احراریوں سے تو ایسا برتاؤ کیا گیا گویا وہ خاندان کے افراد ہیں اور احمدیوں کو اجنبی سمجھا گیا ۱۳۶۰ ساری رپورٹ کا خلاصہ کتاب کے آخری پیرا میں یوں درج ہے کہ۔ہمیں یقین واثق ہے کہ اگر احرار کے مسئلے کو سیاسی مصالح سے الگ ہو کر محض قانون و انتظام کا مسئلہ قرار دیا جاتا تو صرف ایک ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ اور ایک سپرنٹنڈنٹ پولیس ان کے تدارک کیلئے کافی تھے۔چنانچہ وہ طاقت جسے انسانی ضمیر کہتے ہیں ہمیں یہ سوال کرنے کی ترغیب دیتی ہے کہ آیا ہمارے سیاسی ارتقاء کے موجودہ مرحلے پر قانون و انتظام کا مسئلہ اس جمہوری ہم بستر سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا جسے وزارتی حکومت کہتے ہیں اور جس کے سینے پر ہر وقت سیاسی کا بوس سوار رہتا ہے۔لیکن اگر جمہوریت کا یہ مطلب ہے کہ قانون و انتظام کو سیاسی اغراض کے ماتحت کر دیا جائے تو اللہ تعالی ہی علیم وخبیر ہے کہ کیا ہوگا۔اس عدالت میں حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ خود بنفس نفیس تشریف لے جاتے رہے۔جماعت کے وکلاء جناب شیخ بشیر احمد صاحب جناب چوہدری اسد اللہ خاں صاحب اور جناب ملک عبدالرحمن صاحب خادم نے خاص طور پر واقعات کی تحقیقات میں جج صاحبان کی امداد کی۔مشورہ میں جماعت کے سرکردہ علماء جناب مولانا جلال الدین صاحب شمس اور جناب مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری و غیر ہم کو بھی حضور نے شامل کیا۔تاریخ ادیان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین اور حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے حواریوں کی تکالیف اور مصائب کا ذکر پڑھا کرتے تھے۔مگر اپنے زمانہ میں خود اس قسم کے واقعات کا آنکھوں سے مشاہدہ کر لیا اور جب خدا کی نصرت ”افواج کی شکل میں ظاہر ہوئی تو مومنوں کا ایمان تازہ ہو گیا۔فالحمد للہ علی ذالک شیخ بشیر احمد صاحب اب شیخ بشیر احمد صاحب کا زمانہ امارت ختم ہوتا ہے۔لہذا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ شیخ صاحب