لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 553 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 553

553 سکول جلد ہی چنیوٹ میں منتقل ہو گیا۔گرلز ہائی سکول کے لئے بھی پنجاب سرسوتی کالج کی عمارت الاٹ ہوگئی تھی۔۱۰۸ مگر یہ سکول یہاں نہیں چل سکا۔ہمارا نیا مرکز اگست ۱۹۴۸ء میں حضرت نواب محمد دین صاحب مرحوم کے ذریعہ ربوہ کی زمین خریدی جا چکی تھی۔اب اس کی تعمیر کے سلسلہ میں اخراجات کی فوری ضرورت تھی۔مگر حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح رضی اللہ عنہ ایسے بیدار مغز خلیفہ کو پہلے سے ہی اس کی فکر تھی۔چنانچہ حضور نے ستمبر ۱۹۴۷ء میں ایک شوری طلب فرمائی تھی جس میں تحریک فرمائی تھی کہ مرکز پاکستان کی تعمیر کے لئے پانچ لاکھ روپیہ کا ایک فنڈ قائم کیا جائے جس پر احباب نے بڑھ چڑھ کر وعدے کئے تھے مگر عملاً ابھی تک اس میں صرف ایک لاکھ کے قریب ہی روپیہ آیا تھا۔لیکن اب جبکہ زمین خریدی گئی تو ناظر صاحب بیت المال نے اعلان کیا کہ اب احباب کو اس رقم کی فراہمی کے لئے جلد سے جلد توجہ کرنی چاہیئے۔۱۰۹ حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی کی کوئٹہ سے تشریف آوری حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ جون ۱۹۴۸ء کے شروع میں کوئٹہ تشریف لے گئے اور ے۔ستمبر ۱۹۴۸ء کو واپس تشریف لے آئے۔پر چها صیغہ امانت اور دفتر محاسب چنیوٹ میں نئے مرکز کو آباد کرنے کے لئے اب اقدامات شروع کر دیئے گئے۔چنانچہ ۲۸ - ستمبر ۱۹۴۸ء کے الفضل میں اعلان ہوا کہ مؤرخہ ۴ - اکتوبر ۱۹۴۸ء کو صیغہ امانت اور دفتر محاسب معہ عملہ و متعلقہ ریکارڈ چنیوٹ منتقل ہورہے ہیں اور ۶۔اکتوبر سے چندوں کی وصولی اور صیغہ امانت کے لین دین کا انتظام انشاء اللہ چنیوٹ میں شروع کر دیا جائے گا۔چند دنوں کے بعد نظارت تعلیم وتربیت نے بھی ربوہ میں اپنا کام شروع کر دیا۔پھر آہستہ آہستہ سارے دفاتر ربوہ میں منتقل ہو گئے۔