لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 552 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 552

552 جائے گا مگر جب اس خواب کے مطابق سارے قیدی رہا کر دیئے گئے تو ان میں سے چون اصحاب نے بیعت کر لی۔یہ عجیب بات ہے کہ جب قیدیوں کا تبادلہ دونوں حکومتوں نے منظور کیا تو اس کے لئے کئی تاریخیں مقرر ہوئیں مگر جب تک آموں کا موسم نہ آیا وہ تاریخیں تبدیل ہوتی رہیں اور آخر ۱۷ - اپریل ۱۹۴۸ء کو آٹھ بجے شب بذریعہ ٹرین جالندھر سے دوسرے زیر حراست قیدیوں کے ساتھ ہمارے معزز افراد حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم۔ایل۔اے حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب محترم چوہدری شریف احمد صاحب با جوه محترم مولوی احمد خاں صاحب نسیم اور محترم مولوی عبد العزیز صاحب بھا مڑی وغیرہ بھی لاہور پہنچ گئے۔فالحمدللہ علی ذالک۔اس واقعہ سے چھ ماہ قبل ۴ - اکتوبر ۱۹۴۷ء کو ظہر وعصر کی نمازوں کے بعد حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ایک رؤیاء دیکھا تھا کہ سید ولی اللہ شاہ صاحب آئے ہیں اور میرے پاس آ کر بیٹھ گئے ہیں۔انہوں نے صرف قمیض پہنی ہوئی ہے۔تھوڑی دیر تک انہوں نے مجھ سے باتیں کیں اور پھر یہ نظارہ غائب ہو گیا‘ ۱۰۷ اس رویاء کی تعبیر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا تھا کہ ”جو شخص قید ہو اس کے رہا ہونے کی دو ہی تعبیریں ہو سکتی ہیں یا وفات یا پھر واقعہ میں رہا ہو جانا‘ سوالحمد للہ کہ ہماری آنکھوں نے دوسری تعبیر پوری ہوتی دیکھی۔ان بزرگوں کی آمد کے چند دن بعد ۲۱ - اپریل ۱۹۴۸ء کو رتن باغ میں جماعت احمد یہ لاہور کی طرف سے ان کے اعزاز میں ایک جلسہ کیا گیا جس میں جماعت نے اپنے جذبات محبت وعقیدت کا اظہار کیا۔ہمارے تعلیمی ادارے یہاں اس امر کا ذکر بھی ضروری ہے کہ قادیان سے لاہور پہنچ کر حضرت اقدس امیر المومنین رضی اللہ عنہ کو بچوں اور بچیوں کی تعلیم کے متعلق بڑا فکر دامن گیر تھا۔سو الحمد للہکہ تعلیم الاسلام کالج کے لئے ڈی۔اے۔وی کالج کی وسیع عمارت الاٹ ہو گئی اور ربوہ کی زمین کا سودا ہو جانے پر تعلیم الاسلام ہائی