لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 554 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 554

554 حضور کاربوہ تشریف لے جانا ان ایام میں حضور دو مرتبہ ربوہ تشریف لے گئے اور تعمیر ربوہ سے متعلق کا رکنوں کو ضروری ہدایات دیں۔۱۷۔اکتوبر کے پرچہ الفضل سے معلوم ہوتا ہے کہ مستری صاحبان کی مسلسل جد و جہد اور کوششوں کے باوجود ربوہ میں پانی نہیں نکلتا تھا لیکن جس وقت حضور دوسری مرتبہ ربوہ تشریف لائے اور سرزمین ربوہ میں قدم رکھا اسی وقت پانی نکل آیا۔فالحمد للہ علی ذالک۔چنانچہ مستری فضل حق صاحب کا بیان ہے کہ جس وقت حضور کے قدم اس زمین پر داخل ہوئے۔۔۔۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ جیسے نلکا کی نالی کو کوئی طاقت خود بخود پانی کے قریب لے جارہی ہے۔چنانچہ جب حاضرین نے مستری صاحب کے یہ کلمات سنے کہ ” حضور! پانی آ گیا تو بے اختیار الحمد للہ زبان پر جاری ہو گیا۔حضور اس کے بعد دیر تک مستری صاحب سے گفتگو فرماتے رہے اور ہر رنگ میں ان کی حوصلہ افزائی فرماتے رہے۔" خاکسار مؤلف کی لاہور سے سرگودھا تبدیلی اور محترم مولانا عبدالغفور صاحب کا تقرر محترم مولانا عبد الغفور صاحب مرحوم کا تقرر قیام پاکستان کے بعد سرگودھا ہوا تھا اور خاکسار تقسیم برصیغر سے دو سال قبل سے لاہور میں متعین تھا۔اکتوبر ۱۹۴۸ء میں ہم دونوں کا باہمی تبادلہ ہو گیا۔خاکسار نے ضلع سرگودھا میں اور محترم مولانا عبدالغفور صاحب نے لاہور میں کام شروع کر دیا۔خاکسار نے ایک سال ضلع سرگودھا میں کام کرنے کے بعد مرکز ربوہ میں مہتم نشر و اشاعت کا چارج لیا اور ٹریکٹ التبلیغ نکالنا شروع کیا۔۱۹۵۱ء میں خاکسار کا تبادلہ شیخو پورہ میں ہو گیا۔۱۹۵۴ء میں پھر خاکسار کا لاہور میں تقرر ہوا اور اس وقت سے لیکر آج۔امئی ۱۹۷۶ء تک خاکسار یہاں بحیثیت انچارج مربی کام کر رہا ہے۔