لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 551
551 مجھے خوب یاد ہے اس جلسہ میں آزاد کشمیر کے متعدد وزراء بھی شامل ہوئے تھے اور انہوں نے حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی تقریر خوب توجہ سے سنی تھی۔حضرت اقدس کا ورد دسندھ ۱۴ فروری ۱۹۴۸ء کو حضور رضی اللہ عنہ معہ قافلہ سندھ تشریف لے گئے اور ضلع میر پور خاص اور کراچی کا کامیاب دورہ کرنے کے بعد ۲۰ مارچ ۱۹۴۸ء کو واپس لا ہور تشریف لائے۔مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء کے لئے حضرت امیر المومنین خلیفہ لمسیح الثانی نے ۲۶ - ۲۷ مارچ کی تاریخیں مقر فرمائی تھیں اور ۲۸ - مارچ کا دن جلسہ سالانہ ۱۹۴۷ء کی کمی پورا کرنے کے لئے مقرر فرمایا تھا۔یہ دونوں اجتماع خدا تعالیٰ کے فضل سے شاندار طور پر کامیاب رہے۔قیدیوں کا تبادلہ مشرقی پنجاب میں ہند و ملٹری نے بعض مسلمانوں کو مبینہ تخریبی سرگرمیوں کی بنا پر گرفتار کر لیا تھا جن میں جماعت احمدیہ کے بعض معززین بھی شامل تھے۔چنانچہ ۲۲ - اگست ۱۹۴۷ء کو میجر شریف احمد صاحب باجوہ ۱۳ ستمبر کوحضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم۔ایل۔اے۱۴ - سمبر کو محترم سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ۲۱ ستمبر کو چوہدری عبد الباری صاحب اور ۲۹ ستمبر کو محترم مولوی احمد خاں صاحب نسیم اور محترم مولوی عبد العزیز صاحب بھا مڑی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ہمارے ان معززین نے جیل میں دوسرے مسلمانوں کی تربیت کا بہت خیال رکھا۔ان کے نیک نمونہ کو دیکھ کر بہت سے غیر احمدی مسلمانوں پر بہت اچھا اثر پڑا۔بلکہ جب حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال نے اپنی رویاء بتائی کہ آموں کے موسم میں وہ آزاد ہو جائیں گے تو غیر احمدی مسلمانوں پر خاص اثر ہوا۔یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آ سکتی تھی کہ کس طرح ایک شخص اپنی خواب کی بناء پر یقین کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ اور اس کے ساتھی فلاں موسم میں رہا کر دیے جائیں گے۔حالانکہ حالات نہایت ہی خطرناک تھے اور یہ سمجھا جاتا تھا کہ تمام قیدیوں کو اذیتیں دے دیگر موت کے گھاٹ اتار دیا