لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 550
550 خاکسار مؤلف کو وہ زمانہ خوب یاد ہے جب ہماری جماعت کے نوجوانوں نے محاذ جنگ پر جا کر کام شروع کیا، پرانی پھٹی ہوئی وردیاں اور بھنے ہوئے چنے اوائل میں ان کی خوراک تھے مگر جنگ ختم ہونے کے بعد آہستہ آہستہ سب انتظامات درست ہو گئے۔حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب نیر اب میں ایک ایسی بات بیان کرتا ہوں جس سے ظاہر ہوگا کہ بزرگ صحابہ کو قادیان سے کس قدر محبت تھی۔پاکستان آئیکے بعد پہلی عید جو حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی نے منٹو پارک میں پڑھائی۔اس میں نماز اور خطبہ کے بعد احباب جماعت حضرت اقدس سے ملاقات کر رہے تھے۔خاکسار بھی امیدواروں میں سے تھا۔حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب نیر نے خاکسار کو دیکھ کر پوچھا۔کہ آپ یہ بتائیں ہم لوگ قادیان کب واپس جائیں گئے اتنا فرماتے ہی حضرت نیر صاحب کے آنسو نکل آئے۔خاکسار نے جواب میں عرض کیا کہ مولوی صاحب! اس کا انحصار تو ہمارے اعمال پر ہے اگر ہم جلد اپنی اصلاح کر کے اللہ تعالیٰ کے رحم کو جذب کر لیں تو وہ ذات ارحم الراحمین جلد ہمیں واپس قادیان لے جائے گی ورنہ شاید کچھ دیر لگ جائے۔خاکسار کا یہ جواب سنکر حضرت نیر صاحب نے فرمایا ” پھر مجھے تو اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے کہ تم ایک سال کے اندر اندر چلے جاؤ گے۔“ چنانچہ ایک سال کے اندر ۱۷- ستمبر ۱۹۵۸ء کو گوجرانوالہ میں آپ کا وصال ہو گیا۔انا للہ وانا اليه راجعون۔حضرت مولوی شیر علی صاحب اور حضرت مولوی غلام محمد صاحب ماریشسی کی وفات بھی لا ہور ہی میں ہوئی تھی۔پھر ربوہ بہشتی مقبرہ تیار ہونے پر ان کی نعشیں ربوہ میں منتقل کی گئیں۔جلسہ سالانہ ۱۹۴۷ء جلسه سالانه ۱۹۴۷ ء رتن باغ کے سامنے اور جو دھامل بلڈنگ کے قریب منعقد کیا گیا۔اس جلسہ میں مہمانوں کے قیام و طعام کے انتظام میں مرکزی عہدیداروں کی امداد کے لئے محترم جناب شیخ بشیر احمد صاحب امیر جماعت احمد یہ لاہور کی ہدایت کے مطابق محترم با بوفضل دین صاحب، محترم ملک خدا بخش صاحب محترم مرزا مولا بخش صاحب اور محترم شیخ محمود الحسن صاحب نے خاص طور پر حصہ لیا۔