لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 549
549 نقائص ہیں جن کا ازالہ کئے بغیر کبھی دفاع مضبوط نہیں ہوسکتا۔ے۔فضائی طاقت کو مضبوط بنانے پر زور دینا چاہیئے۔عوام میں فضائی تربیت حاصل کرنے کا رجحان پیدا کرنا چاہیئے۔یونیورسٹیوں اور کالجوں میں اس کا انتظام کرنا چاہیئے۔ضرورت کے وقت ہوائی جہاز تو تیار ہو سکتے ہیں لیکن آدمی ایک دن میں تیار نہیں ہو سکتے۔الفضل ۱۱۔جنوری ۱۹۴۸ء میں حضور کے لیکچر کا خلاصہ ان الفاظ میں درج انڈین یونین کا فتھ کالم پاکستان میں موجود ہے لیکن پاکستان کا فتھ کالم انڈین یونین میں موجود نہیں ہے۔کانگرس پنجاب میں بھی اور سرحد میں بھی بعض لوگوں کے ساتھ ساز باز کر رہی ہے۔یہ لوگ ایک تنظیم اور سکیم کے ماتحت آہستہ آہستہ پاکستان کو ضعف پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔پاکستان کے عوام اور حکومت کو ان لوگوں سے خبر دار رہنا چاہیئے۔۹ - یاد رکھو۔افراد کے متعلق جو اسلامی احکام ہیں۔اگر افرادان پر عمل نہیں کریں گے تو کبھی بھی ملک میں اسلامی آئین جاری نہیں ہو سکتا۔“ اس زمانہ میں جن لوگوں نے حضور کی یہ تقاریر سنیں وہ سارے کے سارے حضور کی ان تجاویز سے متفق تھے جو حضور نے بیان فرما ئیں۔مگر وزارتوں کے جلد جلد بدلنے کی وجہ سے ان پر کما حقہ عمل نہ ہو سکا۔لیکن الحمد للہ ثم الحمد للہ کہ اب سر براہ مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خاں کے زمانہ میں بہت حد تک ان تجاویز پر عمل ہورہا ہے۔فرقان فورس ایک اور کام جو حضور نے پاکستان کی استحکام کے خاطر کیا یہ تھا کہ آزاد کشمیر گورنمنٹ کے قیام پر دوسرے مسلمانوں کے طرح حضور نے بھی آزاد گورنمنٹ کی ہر ممکن امداد کی۔بلکہ جب گورنمنٹ کو والنٹر ی فورس کی ضرورت پیش آئی تو فرقان فورس کے ذریعہ جس میں ایک وقت میں کم و بیش پانچ سو سپاہی ہوتے تھے امداد کی۔