لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 488
488 سے مشتعل شدہ جذبات کو ملت اسلامیہ کے ہر فرد نے دبائے رکھا۔اور اس امید سے دل کو تسلی دے لی کہ اس کی اشاعت کے ذمہ دار کو قانون کے ماتحت واجب اور منصفانہ سزا دی جائے گی اور کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔آنریبل مسٹر جسٹس دلیپ سنگھ کے فیصلہ نے امیدوں کے قصر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور اس وسیع ملک کے طول و عرض میں لاکھوں، کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو نہایت سخت صدمہ پہنچا ؟ حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی اس مقدمہ میں فاضلانہ بحث لاہور کے چوٹی کے وکلاء نے سر شفیع مرحوم کی کوٹھی پر جمع ہو کر متفقہ فیصلہ کیا کہ اس مقدمہ میں چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب سے بہتر اور کوئی شخص وکالت کے فرائض سرانجام نہیں دے سکے گا۔اس لئے یہ خدمت محترم چوہدری صاحب کے سپرد کی جاتی ہے۔چنانچہ اخبار دور جدید “ نے لکھا کہ ور مسلم آوٹ لگ کے اس کیس کے سلسلہ میں جو درحقیقت را جپال کے مقدمہ تحقیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک شاخسانہ تھا۔شفیع مرحوم و مغفور کی کوٹھی پر پنجاب کے بہترین وکلاء اس غرض کے لئے جمع ہوئے تھے کہ اس مقدمہ کو ہائی کورٹ میں جوں کے سامنے کون پیش کرے تو ان چوٹی کے آٹھ دس وکلاء نے (جو سب کے سب لیڈرا اور قومی رہنما اور سردار سمجھے جاتے تھے ) متفقہ طور پر فیصلہ کیا تھا کہ اس کام کو چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کے علاوہ اور کوئی شخص کامیابی کے ساتھ انجام نہیں دے سکتا۔چوہدری صاحب موصوف نے اگر چہ اس بات پر بہت زور دیا اور فرمایا کہ آپ حضرات تجربہ قابلیت، شہرت اور استعداد میں مجھ سے بڑھ کر ہیں۔مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ذمہ وار کارکن آپ میں سے کوئی بزرگ ہو جائے اور میں بطور اسٹنٹ ممکن خدمت اور مدد کرتا رہوں لیکن اس کو کسی ایک نے بھی منظور نہ کیا۔چوہدری صاحب نے ہائیکورٹ میں یہ کیس بڑی خوبی کے ساتھ پیش کیا۔اور اپنی سحر بیان تقریر کے آخری فقروں میں فرمایا کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جن کی غلامی پر دنیا کی چالیس کروڑ آبادی کی گردنیں جھکی ہوئی ہیں۔جن کی غلامی پر دنیا کے جلیل القدر شہنشاہ عظیم الشان وزراء مشہور عالم جرنیل اور کسی عدالت پر رونق افروز ہونے والے