لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 487 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 487

487 کے پاس قادیان حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ حضور ! بعض لوگ کہتے ہیں کہ مضمون پر اظہار افسوس کر دینا چاہئے۔مگر حضرت نے یہ مشورہ دیا کہ ”ہمارا فرض ہونا چاہیئے کہ صوبہ کی عدالت کا مناسب احترام کریں۔لیکن جب کہ ایک مضمون آپ نے دیانتداری سے لکھا ہے اور اس میں صرف ان خیالات کی ترجمانی کی ہے جو اس وقت ہر مسلمان کے دل میں اٹھ رہے ہیں تو اب آپ کا فرض سوائے اس کے کہ اس سچائی پر مضبوطی سے قائم رہیں اور کیا ہوسکتا ہے؟ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کا سوال ہے اور ہم اس مقدس وجود کی عزت کے معاملہ میں کسی کے معارض بیان پر بغیر آواز اٹھائے نہیں رہ سکتے ہیں۔میں قانون تو جانتا نہیں اس کے متعلق تو آپ قانون دان لوگوں سے مشورہ لیں۔مگر میری طرف سے آپ کو یہ مشورہ ہے کہ آپ اپنے جواب میں یہ لکھوا دیں کہ اگر ہائیکورٹ کے ججوں کے نزدیک کنور دلیپ سنگھ صاحب کی عزت کی حفاظت کے لئے تو قانون انگریزی میں کوئی دفعہ موجود ہے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت کی حفاظت کے لئے کوئی دفعہ موجود نہیں تو میں بڑی خوشی سے جیل خانہ جانے کے لئے تیار ہوں۔۴۶ مقدمہ کی سماعت اور سید دلاور شاہ صاحب بخاری کا بیان۔۲۲۔جون ۱۹۲۷ء جب یہ مقدمہ ۲۲۔جون ۱۹۲۷ء کو فل بینچ کے سامنے پیش ہوا تو حضرت سید دلاور شاہ صاحب بخاری نے مومنانہ غیرت کا ثبوت دیتے ہوئے یہ بیان دیا کہ مسلمان کا سب سے زیادہ محبوب اور مطلوب جذ بہ یہ ہے کہ وہ اسلام کے بیہ پاک سے عقیدت وافر اور ارادت کامل رکھتا ہے۔مسلمان کے لئے خواہ وہ کسی طبقہ یا درجہ سے تعلق رکھتا ہو عام اس سے کہ وہ امیر ہو یا غریب و نادار یہ ناممکن ہے کہ پیغمبر پاک (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ذات پاک یا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی سیرت مبارکہ پر کسی قسم کا حملہ گورا را کر سکے یہی وجہ ہے کہ ”رنگیلا رسول“ کی اشاعت سے ہر ایک قلب مسلم پر یاس و هیجان مستولی ہو گیا۔ہر مسلمان مضطرب نظر آنے لگا لیکن اس اشتعال انگیز کتاب کی