لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 489
489 حج ( جن کی قابلیت پر زمانہ کو ناز ہے ) فخر کرتے ہیں ایسے انسان کامل کے متعلق راجپال کی ذلیل تحریر کوکسی حج کا یہ قرار دینا کہ اس سے نبی کریم کی کوئی بہتک نہیں ہوئی تو پھر مسلم آوٹ لگ“ کے مضمون سے بھی یہ فیصلہ قرار دینے والے کہ اس سے کسی کی کوئی تحقیر نہیں ہوئی صائب الرائے ٹھہر تے ہیں۔اس موقعہ پر مولانا ظفر علی خاں صاحب جو اس وقت موجود تھے فرط جوش میں آبدیدہ ہو گئے اور ان سے رہا نہ گیا۔وہ صفوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور چوہدری صاحب کا ہاتھ چوم کر ان کو گلے سے لگالیا۔نیز نہایت پُر زور طریق سے یہ بات کہی کہ چوہدری صاحب کی اس 66 تقریر نے واضح طور پر یہ غلط ثابت کر دیا ہے کہ مسلمانوں میں مقرر نہیں۔“ ان واقعات سے صرف کرتے ہوئے چوہدری صاحب کو ایک زمانہ میں انجمن حمایت اسلام کی ممبری کیلئے مینیجنگ کمیٹی کا بھی مبر بنایا گیا اور آپ نے مسلمانوں کے مختلف ڈیپوٹیشنز کی مہبری کے فرائض سرانجام دیئے۔۲۔اخبار ”سیاست“ لاہور نے لکھا: ۴۸ اس سوال پر کہ عدالت عالیہ کو اس مقدمہ کی سماعت کا حق حاصل ہے یا نہیں، چوہدری ظفر اللہ خاں بیرسٹرایٹ لاء ممبر پنجاب کونسل نے زبردست تقریر کی اور متعدد حوالے دے کر ثابت کرنا چاہا کہ عدالت ہائے برطانیہ کو ولایت کے قانون عامہ کی رو سے ایسے مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل ہے۔یہ اختیار پرانی عدالت ہائے ہند کو حاصل تھا جو بمبئی، مدراس اور کلکتہ میں موجود تھیں۔ان کے بعد انہی شہروں میں عدالت ہائے عالیہ مقرر ہوئیں۔ان کو یہ حق خاص طور پر تفویض ہوا۔ان کے سوا کسی عدالت کو یہ حق حاصل نہیں۔سرکاری وکیل نے جواب میں کہا کہ الہ آباد ہائیکورٹ اور پنجاب ہائیکورٹ کی حیثیت ایک ہی ہے اور دونوں کو یہ حق حاصل ہے۔غرض کہ پُر لطف بحث ہوئی اور ساڑھے گیارہ بجے عدالت نے یہ فیصلہ کیا کہ ہمیں سماعت مقدمہ کا حق حاصل ہے۔اگر چہ فیصلہ چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کے خلاف ہوا۔تاہم ان کی قابلیت اور ان کے فاضلانہ خطاب کا ہر شخص معترف تھا اور اپنے اور بیگانے وکلاء نے بھی ان کو ان کی تیاری اور قابلا نہ تقریر پر مبارکباد دی۔اس کے بعد اصل الزام زیر بحث آیا۔مسٹر کا رڈن بیرسٹر نے سرکار کی طرف سے تقریر کی اور کہا کہ جس مضمون پر اعتراض ہے وہ ۱۴۔جون کو شائع ہوا۔اس کا عنوان ہے