لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 486
486 ہیجان کی صورت پیدا ہو گئی۔نوبت با نجار سید کہ گورنمنٹ نے قیام امن کے پیش نظر پوسٹر ضبط کر لیا۔مگر پوسٹر کا جو مقصد تھا وہ اس کے ضبط کرنے سے بطریق احسن پورا ہو گیا۔اس ضبطی نے مسلمانوں کے غم و غصہ میں جلتی پر تیل کا کام دیا اور حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت کو قائم کرنے کے لئے ہر قربانی دینے کیلئے تیار ہو گئے۔رنگیلا رسول کے متعلق ہائیکورٹ کے فیصلہ کو کالعدم قرار دینا تو حکومت کے بس کی بات نہ تھی۔مگر ورتمان“ کا نا پاک اور گندہ پر چہ ضبط کرنا اور اس پر مقدمہ چلانا حکومت نے ضروری سمجھا۔ہندوؤں نے بہتیر شور مچایا کہ ورتمان کی ضبطی کے ساتھ ساتھ مرزا صاحب (حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ۔مؤلف ) پر بھی مقدمہ چلایا جائے مگر گورنمنٹ نے ان کے اس واو پیلا کو درخور اعتنا نہ سمجھا۔اور چیف جسٹس نے یہ مقدمہ ایک حج کے سپر د کر دیا۔حضرت امیرالمومنین خلیفہ اسیح الثانی کی بیدار مغزی دیکھئے کہ حضور نے فوراً بذریعہ تار حکومت کو توجہ دلائی کہ یہ مقدمہ ایک سے زیادہ جوں کے سامنے پیش ہونا چاہئے تا ۱۵۳۔الف سے متعلق جسٹس دلیپ سنگھ کے فیصلہ کی بھی تحقیق ہو جائے۔یہ معقول مطالبہ حکومت نے منظور کر لیا۔اور مقدمہ ورتمان ڈویژن بینچ کے سپر د ہو گیا۔" جس نے ۱۶۔اگست ۱۹۲۷ء کو یہ فیصلہ دیا کہ مذہبی پیشواؤں کے خلاف بدزبانی ۱۵۳۔الف کی زد میں آتی ہے اور بانی اسلام کو اسلام سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا اور بنا بریں ڈویژن بینچ نے ورتمان“ کے مضمون نگار کو ایک سال قید با مشقت اور پانچ سور و پیہ جرمانہ اور ایڈیٹر کو چھ ماہ قید با مشقت اور اڑھائی سور و پیہ جرمانہ کی سزادی۔۲۵ اخبار مسلم آوٹ لگ لاہور کا عدالتی فیصلہ کے خلاف احتجاج اب ”رنگیلا رسول سے متعلق جسٹس کنور دلیپ سنگھ کے فیصلہ کا ردعمل دیکھئے۔انگریزی اخبار دو مسلم آوٹ لگ ( Muslim Outlook) کے احمد کی ایڈیٹر حضرت سید دلاور شاہ صاحب بخاری نے اپنے اخبار کی ۱۴۔جون ۱۹۲۷ ء کی اشاعت میں مستعفی ہو جاؤ“ کے عنوان سے ایک اداریہ لکھا جس پر ہائیکورٹ نے ایڈیٹر اور مالک اخبار کے خلاف توہین عدالت کے نوٹس جاری کر دیئے۔حضرت اقدس کا شاہ صاحب کو مشورہ حضرت سید دلاور شاہ صاحب بخاری ہائیکورٹ کا یہ نوٹس لے کر بغرض مشورہ حضرت خلیفہ المسح ย