لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 485
485 سے محبت اور صلح کی توقع نہیں رکھ سکتا۔“ پھر مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ”اے بھائیو! میں دردمند دل سے پھر آپ کو کہتا ہوں کہ بہادر وہ نہیں جولڑ پڑتا ہے۔وہ بزدل ہے کیونکہ وہ اپنے نفس سے دب گیا ہے۔بہادر وہ ہے جو ایک مستقل ارادہ کر لیتا ہے اور جب تک اس کو پورا نہ کر لے اس سے پیچھے نہیں ہتا۔پس اسلام کی ترقی کے لئے اپنے دل میں تینوں باتوں کا عہد کر لو۔اول یہ کہ آپ خشیت اللہ سے کام لیں گے اور دین کو بے پروائی کی نگاہ سے نہیں دیکھیں گے۔دوسرے یہ کہ آپ تبلیغ اسلام سے پوری دلچسپی لیں گے۔اپنے مال کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اور تیسرے یہ کہ آپ مسلمانوں کو تمدنی اور اقتصادی غلامی سے بچانے کے لئے پوری کوشش کریں گے اور اس وقت تک بس نہیں کریں گے جب تک کہ مسلمان اس کچل دینے والی غلامی سے بکلی آزاد نہ ہو جائیں۔اور جب آپ یہ عہد کر لیں تو پھر ساتھ ہی اس کے مطابق اپنی زندگی بسر کرنے لگیں۔یہی وہ سچا اور حقیقی بدلہ ہے ان گالیوں کا جو اس وقت بعض ہند و مصنفین کی طرف سے رسول کریم اللہ فد یه نفسی واہلی کو دی جاتی ہیں اور یہی وہ سچا اور حقیقی علاج ہے جس سے بغیر فساد اور بدامنی پیدا کرنے کے مسلمان خود طاقت پکڑ سکتے ہیں اور دوسروں کی مدد کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں ورنہ اس وقت تو وہ نہ اپنے کام کے ہیں۔نہ دوسروں کے کام کے۔اور وہ قوم ہے بھی کس کام کی جو اپنے سب سے پیارے رسول کی عزت کی حفاظت کے لئے حقیقی قربانی نہیں کر سکتی۔کیا کوئی دردمند دل ہے جو اس آواز پر لبیک کہہ کر اپنے علاقہ کی درستی کی طرف توجہ کرے اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کا وراث ہو، ۴۳ حضرت اقدس کا یہ پوسٹر ایک ہی تاریخ میں بیک وقت ملک بھر میں چسپاں کر دیا گیا۔جس کے نتیجہ میں تمام مسلم قوم کی آنکھیں کھل گئیں اور انہیں معلوم ہو گیا کہ ان کی ہمسایہ قوم کس طرح ان کے آقائے نامدار حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت و ناموس پر حملے کر کے ان کے جذبات کے ساتھ کھیل رہی ہے۔چنانچہ تمام ہندوستان کے طول و عرض میں مسلمانوں کے اندر ایک زبر دست۔