لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 482 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 482

482 حضرت امیر المومنین خلیفہ اسی الثانی رضی اللہ عنہ کی ہدایات کی روشنی میں مظلومین کی امداد کے لئے طریق کار یہ اختیار کیا گیا کہ سب سے پہلے متقولین اور مجروحین اور ان کے پسماندگان سے متعلق ضروری اور مفصل معلومات حاصل کرنے کیلئے ایک اشتہار دیا گیا۔جس کے نتیجہ میں صبح 4 بجے سے لیکر رات 9 بجے تک مسجد میں اطلاعات آنا شروع ہو گئیں۔اس پر جہاں جہاں بھی امداد کی ضرورت ہوتی یہ بزرگ مقامی احمدیوں کے تعاون سے ضروری امداد بہم پہنچاتے۔مظلوم مسلمانوں کی امداد کے لئے متعدد مرتبہ یہ بزرگ کو توالی میں بھی گئے۔بالا حکام سے بھی ملاقاتیں کیں۔مقتولیں اور مجروحین کے گھروں میں جا کر ان کے متعلقین کی بھی ڈھارس بندھوائی اور ان کی مناسب امداد کا سامان کیا۔احمدی ڈاکٹروں نے ہسپتال میں جا جا کر زخمیوں کی دیکھ بھال میں ہسپتال کے عملہ کا ہاتھ بٹایا۔غرض کہ جو کچھ بھی یہ بزرگ کر سکتے تھے انہوں نے دن رات ایک کر کے مہینوں تک لاہور کے مظلوم مسلمانوں کے لئے کیا۔چنانچہ جماعت احمدیہ کی اس وسیع امداد کا ذکر کرتے ہوئے لاہور کے ہفت روزہ ترجمان نے لکھا۔مرزائی مسلمانوں نے بڑے وسیع پیمانے پر لاہور کے مصیبت زدہ مسلمانوں کی ہر صورت میں یعنی قانونی اور نقدی کی امداد بہم پہنچانا شروع کر دی ہے“۔" کتاب ”رنگیلا رسول“ پر جماعت احمدیہ کا رد عمل گذشتہ سطور میں ذکر ہو چکا ہے کہ ہندو مسلم فسادات کی بڑھتے بڑھتے یہاں تک نوبت پہنچی کہ مئی ۱۹۲۷ء کے پہلے ہفتہ میں اولا سکھوں نے اور پھر ہندوؤں نے لاہور کے مسلمانوں پر قاتلانہ حملے شروع کر دیے جس کے نتیجہ میں لاہور قتل و غارت کی آماجگاہ بن گیا اور کوئی دوسو افراد ہلاک اور تین سو سے زیادہ مجروح ہوئے۔بد زبان اور دریدہ دہن ہند و مصنفین نے بعض اشتعال انگیز کتابیں اور رسالے بھی لکھنے شروع کر دیئے جن میں پاکوں کے سردار حضرت محمد مصطفی علیہ کی ذات بابرکات پر کمینے حملے شروع کر دیے تھے جن کا مقصد محض اور محض یہ تھا کہ مسلمانوں کے قلوب اپنے آقا و پیشوایے پر نا پاک حملے دیکھ کر چھلنی چھلنی ہو جائیں اور وہ اشتعال انگیز حرکات پر اتر آئیں۔چنانچہ ایک آریہ سماجی راجپال نام نے ایک ایسی کتاب ”رنگیلا رسول نامی شائع کی۔جس پر مسلمانوں کے جذبات سخت