لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 483
483 مجروح ہوئے اور ان کے توجہ دلانے پر حکومت نے راجپال پر مقدمہ چلایا۔اس مقدمہ کے نتیجہ میں ابتدائی عدالت نے راجپال کو زیر دفعہ ۱۵۳۔الف تعزیرات ہند چھ ماہ قید با مشقت اور ایک ہزار رویپر جرمانہ یا چھ ماہ قید مزید کی سزا دی۔راجپال نے ہائیکورٹ میں اپیل کی۔ہائیکورٹ کے جج کنور دلیپ سنگھ نے فیصلہ دیا کہ ” میری رائے میں دفعہ ۱۵۳۔الف اس قدر وسیع معانی کے لئے نہیں بنایا گیا تھا۔میرے خیال میں اس دفعہ کے وضع کرنے کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو کسی ایسی قوم پر حملہ کرنے سے روکا جائے جو موجود ہو نہ کہ اس سے گذشتہ مذہبی رہنماؤں کے خلاف اعتراضات اور حملوں کو روکنا مقصود تھا۔جہاں تک میرا تعالق ہے میں اس امر پر اظہارافسوس کرتا ہوں کہ ایسی دفعہ کی تعزیرات میں کمی ہے لیکن میں یہ نہیں سمجھتا کہ یہ مقدمہ دفعہ ۱۵۳۔الف کی زد میں آتا ہے اس لئے میں نظر ثانی کو بادلِ ناخواستہ منظور کرتا ہوں اور مرافعہ گزار کو بَری کرتا ہوں۔رسالہ ”ورتمان امرتسر یہ مقدمہ جس کا فیصلہ اوپر درج کیا گیا ہے ابھی زیر سماعت ہی تھا کہ امرتسر کے ہند و رسالہ ورتمان نے مئی ۱۹۲۷ء کی اشاعت میں ایک آریہ دیوی شرن شرما کا آنحضرت مہ کے خلاف ایک نہایت ہی دلآ زار مضمون شائع کیا۔اس مضمون میں افسانوی صورت میں یہ دکھایا گیا تھا کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فداہ ابی وامی (معاذ اللہ ) شہوت رانی کی وجہ سے مبتلائے عذاب ہیں۔اس مضمون میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام اور حضور کے ازواج مطہرات اور حضرت علیؓ کے نام بھی بگاڑ کر پیش کئے گئے تھے۔ابھی یہ مضمون شائع ہوا ہی تھا کہ ہائیکورٹ لاہور نے راجپال مذکور کو بھی بری کر دیا۔ان دونوں واقعات نے مسلم قوم کے جذبات کو سخت مجروع کیا۔حضرت خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے علم میں مذکورہ ورتمان کا یہ نہایت ہی دلآ زار مضمون آتے ہی حضور نے فوراً مسلمان قوم کی رہنمائی اور حکومت کو اپنے جذبات سے آگاہ کرنے کے لئے ایک پوسٹر شائع کیا جس کا عنوان تھا ”رسول کریم کی محبت کا دعویٰ کرنے والے کیا اب بھی بیدار نہ ہوں