لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 481 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 481

481 محترم جناب مولا نا عبدالمجید صاحب سالک کا بیان ہے: دم۔مئی ۱۹۲۷ء کو رات کے وقت حویلی کا بلی مل کی مسجد سے چند مسلمان نماز پڑھ کر نکلے۔تو سکھوں نے ڈبی بازار والے گوردوارے سے نکل کر ان پر حملہ کیا اور تین غازی شہید ہو گئے حکام شہر اور بزرگان شہر نے انتہائی تدابیر اختیار کیں تا کہ فساد پھیلنے نہ پائے۔مسلمانوں نے نہایت صبر و شکیب سے کام لیا اور دوسرے دن شہداء کی میتیں ہزار ہا مسلمانوں کے جلوس کے ساتھ اٹھیں۔جب یہ جلوس لوہاری دروازہ کے باہر پہنچا تو ہندوؤں کے ایک مکان سے کنکر پھینکے گئے۔مسلمان بپھر گئے۔لیکن پھر بڑوں کے سمجھانے بجھانے پر خاموش ہو گئے تا کہ جنازوں کی تو ہین نہ ہو۔لیکن جب ہزار ہا مسلمان جنازوں کو دفن کرنے کے بعد واپس آئے تو ہندوؤں سے ان کا تصادم ہو گیا اور شہر کے مختلف حصوں میں چھرا چلنے لگا۔اگر چہ اس فساد کا آغاز سکھوں کی طرف سے ہوا تھا لیکن حویلی کا بلی مل کے حادثہ کے بعد سکھ خدا جانے کہاں غائب ہو گئے اور خونریزی ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ہونے لگی۔ایسی حالت میں سکھوں کا طریقہ یہی ہوتا تھا کہ وہ جانتے تھے کہ ہم بہت قلیل اقلیت میں ہیں۔اگر ہم میں سے دو تین آدمیوں نے فساد شروع کر دیا ہے تو باقی سکھوں کو اس فساد کے نتائج سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ طیش کھائے ہوئے مسلمان ہندوؤں پر حملہ آور ہو جاتے تھے اور پھر ہندو بھی اپنے اپنے حلقوں میں مسلمانوں کا قتل کرنا شروع کر دیتے تھے۔غرض دو تین دن لاہور میں کشت و خون کا سلسلہ جاری رہا اور کوئی دوسو ہلاک اور تین سو سے زیادہ زخمی ہوئے“۔۳۸ حضرت امیر المومنین خلیفہ المسح الثانی رضی اللہ عنہ کو جب قادیان میں اس کشت وخون کی اطلاع ہوئی تو حضور کو سخت صدمہ ہوا۔چنانچہ حضور نے حضرت مولانا ذوالفقار علی خاں صاحب ناظر اعلیٰ اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب ناظر امور عامہ اور حضرت مولوی فضل دین صاحب کو بعض اہم ہدایات دے کر لاہور بھجوایا۔ان تینوں بزرگوں نے ہر ممکن ذریعہ سے مظلومین کی امداد کی۔ان کے بعد حضور نے مزید ہدایات دے کر حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کو بھی یہاں بھجوایا اور مسجد احمد یہ بیرون دہلی دروازہ میں انفارمیشن بیوور ( شعبہ اطلاعات ) قائم کر دیا گیا۔۳۹