لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 471 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 471

471 مبارک بھائی کی طرف سے ہم پر عائد ہوتا ہے جس نے اپنی جان خدا کے لئے قربان کر دی ہے۔اس نے اس کام کو شروع کیا ہے جسے ہمیں پورا کرنا ہے۔آؤ ہم اس لمحہ سے یہ مصم ارادہ کر لیں کہ ہم اس وقت تک آرام نہیں کریں گے جب تک ہم ان شہیدوں کی زمین کو فتح نہیں کر لیں گے ( یعنی وہاں احمدیت نہیں پھلا لیں گے ) صاحبزادہ عبداللطیف صاحب نعمت اللہ خاں صاحب اور عبدالرحمن صاحب کی روحیں آسمان سے ہمیں ہمارے فرائض یاد دلا رہی ہیں۔اور میں یقین کرتا ہوں کہ احمد یہ جماعت ان کو نہیں بھولے گی۔اسے حضور کا یہ پیغام پڑھ کر مخلصین کی بہت بڑی تعداد نے سرزمین کا بل میں پہنچ کر تبلیغ کے کام کو جاری رکھنے کے لئے اپنے نام حضرت امیر المومنین کی خدمت میں پیش کئے۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب جو ان ایام میں امیر جماعت لاہور تھے نے لکھا کہ حضور انور میں کمزور ہوں، سست ہوں آرام طلب ہوں۔لیکن غور کے بعد میرے نفس نے یہی جواب دیا ہے کہ میں نمائش کے لئے نہیں، فوری شہادت کے لئے نہیں، دنیا کے افکار سے نجات کے لئے نہیں بلکہ اپنے گناہوں کے لئے تو بہ کا موقعہ میسر کرنے کیلئے اپنے تئیں اس خدمت میں پیش کرتا ہوں۔اگر مجھ جیسے نابکار گنہگار سے اللہ تعالیٰ یہ خدمت لے اور مجھے یہ توفیق عطا فرمائے کہ میں اپنی زندگی کے بقیہ ایام اس کی رضا کے حصول میں صرف کر دوں تو اس سے بڑھ کر میں کسی نعمت اور کسی خوشی کا طلبگار نہیں۔مسجد احمد یہ لاہور کی تعمیر ۱۹۲۴ء حضرت چوہدری صاحب ابھی یورپ میں ہی تھے کہ آپ کے قائمقام امیر حضرت حکیم محمد حسین صاحب موجد مفرح عنبری نے مسجد احمد یہ بیرون دہلی دروازہ لاہور کی تعمیر کا کام شروع کروا دیا۔اس مسجد کی تعمیر سے قبل مسجد کا کام حضرت میاں چراغ دین صاحب رئیس لاہور کی بیٹھک دیا کرتی تھی اور یہی جگہ بطور مہمان خانہ استعمال ہوا کرتی تھی۔مسجد احمد یہ بیرون دہلی دروازہ لاہور والا احاطہ میاں فیملی سے سید نادرشاہ صاحب جہلمی نے ساڑھے گیارہ ہزار روپے میں خریدا تھا۔پہلے اس علاقہ میں چمڑا منڈی ہوا کرتی تھی مگر بعد ازاں جی ٹی روڈ پر منتقل ہو گئی۔اس جگہ چھڑا سکھانے کا کام ہوتا تھا۔